کتاب: صدارتی خطبات(رحمانی) - صفحہ 374
میں محصور ومقصور ہے تو پھر قرآن کا یہ واشگاف اعلان بھی سن لیجئے : [ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ۔ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ][1] ترجمہ: پھر حق کے بعد اور کیا ره گیا بجز گمراہی کے، پھر کہاں پھرے جاتے ہو؟ یہ اللہ تعالیٰ کے دوٹوک فرامین ہیں،جن میں کسی ترمیم یا کمی بیشی کی نہ کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی کوئی ایسی جسارت کر سکتاہے۔ (اِنَّہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ . وَّمَا ہُوَبِالْہَزْلِ][2] ترجمہ:بیشک یہ (قرآن) البتہ دو ٹوک فیصلہ کرنے والاکلام ہے ،یہ ہنسی کی (اور بے فائده) بات نہیں ۔ (۵) صحیح بخاری ومسلم میں مروی،عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہما کا قصہ بھی بہت قابلِ غور ہے، یہ واقعہ بہت کچھ سوچنے،سمجھنے اور اپنانے کی دعوت دیتا ہے،ان کے والد عمروبن العاص رضی اللہ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکران کی شکایت کی، چنانچہ عرض کرتے ہیں:میں نے اشراف العرب میں اپنے بیٹے کی شادی کی ہے، میں روزانہ اپنی بہوسے اس کے شوہر کے بارہ میں پوچھتا،اس کا یہی جواب ہوتا:(صالحا غیر أنہ لم یطأ لنا فراشا)یعنی:میرا شوہر بہت نیک ہے،البتہ اب تک میرے ساتھ بستر پر نہیں سویا۔ عمروبن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو پندرہ دن گزر چکے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ کو طلب فرمالیااور ارشادفرمایا:(بلغنی أنک تصوم
[1] یونس:۳۲ [2] الطارق:۱۳،۱۴