کتاب: صدارتی خطبات(رحمانی) - صفحہ 373
ہے نہ عنداللہ قابلِ قبول۔ اللہ تعالیٰ نے واشگاف اعلان فرمایا ہے: [مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ۰ۚ وَمَنْ تَوَلّٰى فَمَآ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْہِمْ حَفِيْظًا][1] ترجمہ:اس رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جو اطاعت کرے اسی نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی اور جو منھ پھیر لے تو ہم نے آپ کو کچھ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا ۔ [ قُلْ اِنَّ الْہُدٰى ھُدَى اللہِ۰ۙ ][2] آپ کہہ دیجئے کہ بے شک ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے ۔ دوسرے مقام پر اس سے بھی زیادہ اسلوبِ حصر اختیار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: [قُلْ اِنَّ ھُدَى اللہِ ھُوَالْہُدٰى۰ۭ ][3] آپ کہہ دیجیئے کہ اللہ کی ہدایت ہی ہدایت ہے ۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو ہدایت قرار دیا ہے،فرمایا: [وَاِنْ تُطِيْعُوْہُ تَہْتَدُوْا۰ۭ وَمَا عَلَي الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ][4] ترجمہ:ہدایت تو تمہیں اسی وقت ملے گی جب رسول کی ماتحتی کرو۔ سنو رسول کے ذمے تو صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے ۔ جب یہ حقیقت واضح ہوچکی کہ حق وحی الٰہی یا بالفاظ دیگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت
[1] النساء:۸۰ [2] آل عمران:۸۳ [3] البقرہ:۱۲۰ [4] النور:۵۴