کتاب: صدارتی خطبات(رحمانی) - صفحہ 372
ترجمہ:اور نہ وه اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں وه تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے ۔ (۴)اسی سفرِحج میں روانہ ہوتے ہوئے ایک انتہائی نیک اور صالح گھرانے کی خاتون،عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے ایک نذر مان لی کہ وہ یہ تمام سفر ننگے پاؤں،ننگے سراورپیدل طے کریں گی ،تاکہ یہ تمام تراذیت، اضافۂ حسنات کا باعث بن جائے،عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نےاپنی بہن سے کہا :پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم کرناچاہئے کہ یہ نذر درست بھی ہے یانہیں؟ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:(إن أختی نذرت أن تحج البیت ماشیۃ حافیۃ حاسرۃ)یعنی:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری بہن نے نذر مانی ہے کہ وہ حجِ بیت اللہ کاپوراسفر پیدل،ننگے پاؤں اور ننگے سر کرے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (إن اللہ عن تعذیب أختک نفسھا لغنی) یعنی: اللہ تعالیٰ بے پرواہ اور بےنیاز ہے اس تکلیف سے جو تمہاری بہن اپنے آپ کو دینا چاہتی ہے۔[1] گویارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمادیا کہ ایک عمل خواہ کسی انسان کو کتنا ہی خوشنما لگتا ہواور کتنا ہی اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کا ذریعہ لگتا ہو،لیکن اس وقت تک اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے جب تک امام الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یا فرمان سے ثابت نہ ہو،لہذا طریقِ عبادت یا طریق الی اللہ کا یہ منہج نوٹ کرلو ،اس کے علاوہ کوئی راستہ نہ تو درست ہوسکتا
[1] طبرانی کبیر