کتاب: صدارتی خطبات(رحمانی) - صفحہ 371
[قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّيْٓ اٰيَۃً۰ۭ قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَيَالٍ سَوِيًّا۔ فَخَرَجَ عَلٰي قَوْمِہٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰٓى اِلَيْہِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَۃً وَّعَشِـيًّا۔][1]
ترجمہ:کہنے لگے میرے پروردگار! میرے لئے کوئی علامت مقرر فرما دے، ارشاد ہوا کہ تیرے لئے علامت یہ ہے کہ باوجود بھلا چنگا ہونے کے تو تین راتوں تک کسی شخص سے بول نہ سکے گا ۔اب زکریا ( علیہ السلام ) اپنے حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آکر انہیں اشاره کرتے ہیں کہ تم صبح وشام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو ۔
واضح ہو کہ ہمارے دین میں خاموشی کا روزہ بدعت ہے،لہذا کوئی بھی شخص خواہ وہ صحابی کیوں نہ ہو اگر اس خاموشی کو تقرب الی اللہ کی بنیاد قرار دے گا تو یہ عمل مردود شمار ہوگا، ثابت ہوا کہ تقرب الی اللہ کا راستہ صرف وہی معتبر ہے جورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل ہو۔
دوسرا اس شخص نےدورانِ سفر دھوپ میں بیٹھے رہنے کی نذر مانی تھی، اس کی سوچ یہ تھی کہ حج جیسا مبارک سفر ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مصاحبت ومرافقت میسر ہے،لہذا مزید اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالوں تاکہ اجروثواب بڑھ جائے،لیکن سائے کی موجودگی میں دھوپ میں بیٹھنا اور وہ بھی عرب کے تپتے صحراؤںمیں ایک ایسا تکلف ہے جس کی شریعت قطعاً حوصلہ افزائی نہیں کرتی،لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنابریں کہ یہ عمل وحی الٰہی سے ثابت نہیں، اسے باطل ومردود قرار دیا،اور اس بات پر مہرثبت فرمادی کہ اثباتِ عبادت کا راستہ ایک ہی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی وحی ہے،جس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری زندگی ترجمانی فرمائی:
[وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰى۔ اِنْ ہُوَاِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى۔ ] [2]
[1] مریم:۱۰،۱۱
[2] النجم:۳،۴