کتاب: صدارتی خطبات(رحمانی) - صفحہ 370
(۳) اسی سفرِحج میں اسی قسم کا ایک اور واقعہ سامنے آتاہے،عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دورانِ سفر دھوپ میں بیٹھادیکھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارہ میں استفسار فرمایا،صحابہ نے عرض کیا: (یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نذر أن یصوم ولا یتکلم ویجلس فی الشمس) یعنی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اس شخص نے دورانِ حج چپ رہنے کی نذر مانی ہے،اور یہ کہ جب تک یہ سفرقائم ہے کسی سے کلام نہیں کرے گا،اور یہ نذر بھی مانی ہے کہ یہ سارا سفر دھوپ میں اختیار کیے رہے گا۔[1] واضح ہوکہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کاقرب حاصل کرنےکیلئے اور بے شمار اجر وثواب پانے کیلئے دو نذریں مانی تھیں: ایک پورے سفر کے دوران خاموش رہنے کی،خاموشی کا روزہ سابقہ امتوں میں جائز تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے مریمسے فرمایاتھا: [فَكُلِيْ وَاشْرَبِيْ وَقَرِّيْ عَيْنًا۰ۚ فَاِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا۔ فَقُوْلِيْٓ اِنِّىْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْيَوْمَ اِنْسِـيًّا][2] ترجمہ:اب چین سے کھا پی اور آنکھیں ٹھنڈی رکھ، اگر تیری کسی انسان پرنظر پڑ جائے تو کہہ دینا کہ میں نے اللہ رحمٰن کے نام کا روزه مان رکھا ہے۔ میں آج کسی شخص سے بات نہ کروں گی۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے زکریا علیہ السلام کی تین دن کیلئےزبان بند فرمادی:
[1] صحیح بخاری،سنن ابی داؤد [2] مریم:۲۶