کتاب: صدارتی خطبات(رحمانی) - صفحہ 369
کوشش کرے،خواہ وہ انبیاء سابقین میں سے کوئی نبی کیوں نہ ہو،آپ غورکیجئے کہ موسیٰ علیہ السلام جن کاشمار پانچ اولوالعزم انبیاء میں ہوتاہے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے شرفِ ہمکلامی سے مشرف فرمایا،ان کی اطاعت بھی جائز نہیں،حالانکہ تورات منزل من اللہ کتاب ہے،پھر موسیٰ علیہ السلام بھی آج اگر موجود ہوں تو ان کی نجات کا راستہ عمل بالتورات نہیں بلکہ اتباعِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ (۲) انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے موقعہ پر ایک شخص کو دوافراد کے درمیان ان کا سہارالیکر چلتے ہوئے دیکھا،فرمایا:کیامعاملہ ہے؟صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:(یارسول اللہ نذرأن یحج ماشیا)یعنی:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس شخص نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی ہوئی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد دفرمایا: (إن اللہ عن تعذیب ھذا نفسہ لغنی،مروہ فلیرکب)[1] یعنی:اللہ تعالیٰ اس کے اپنے آپ کو اذیت دینے سے بے پرواہ ہے،اسے حکم دوکہ فوراً سوارہوجائے۔ یہاں شاہد یہ ہے کہ اس شخص نے تقرب الی اللہ کی نیت سے پیدل چلنے کی نذرمانی تھی، تاکہ اس کا وہ حج جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت وقیادت میں ہورہا ہے ،باعتبارِ اجر و ثواب اضعافاً مضاعفۃ ہوجائے،لیکن چونکہ سواری ہوتے ہوئے پیدل حج کی مشقت برداشت کرنا شریعتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ببانگِ دہل اس امر سے منع فرمادیا،بلکہ یہ واضح فرمادیا کہ اگر یہ بنیتِ ثواب پیدل چلتا رہا تو ثواب ملنا تو درکنار اللہ تعالیٰ کا غیظ وغضب مول لے لیگا۔
[1] بخاری ومسلم