کتاب: صدارتی خطبات(رحمانی) - صفحہ 368
رکین ہے،جس کامعنی یہ ہے کہ تمام تر عبادات کا راستہ اور طریقہ ایک ہی شخصیت سے لیاجائے گا،اور وہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں،اس کے علاوہ ہر راستہ نہ صرف یہ کہ مردود ہے بلکہ ایسے اعمال کی بربادی کا بھی باعث ہے جو انسان صحیح طریقہ سے انجام دینے میں کامیاب ہوجائے۔
ہم اس اصل الاصول کو بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ اور سیرت مبارکہ سے واضح کرتے ہیں،چنانچہ چندمشاہد پیشِ خدمت ہیں:
(۱) ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امیرالمؤمنین عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تورات کا ایک ورق دیکھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم غضبناک ہوگئے اور فرمایا:
(أھذا و أنا بین أظھرکم ، لقد جئتکم بھا بیضاء نقیۃ ۔۔۔واللہ لو کان موسیٰ حیا لماوسعہ إلا أن یتبعنی)[1]
یعنی:میں تمہارے درمیان موجود ہوں اور یہ کچھ ہورہاہے؟میں تمہارے پاس روشن اورصاف دین لیکر آیا ہوں ۔۔۔اللہ کی قسم!اگر (صاحبِ تورات)موسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو میری اتباع کے سوا ان کیلئے کوئی چارۂ کار نہ ہوتا۔
یہ حدیث مسند احمد اور سنن دارمی میں مذکور ہے اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس کے ایک راوی مجالد بن سعید کے ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے اور فرمایا ہے کہ امام لالکائی رحمہ اللہ نے اس کے بہت سے طرق ذکر فرمائے ہیں جن سے حدیث کا حسن ہونا ثابت ہوتاہے۔
واضح ہو کہ یہ حدیث توحیدِطریقِ عبادت کے منہج کو متعین کرتی ہے،چنانچہ کسی شخص کیلئے قطعاً روانہیں ہے کہ وہ کتاب وسنت کے علاوہ کہیں سے ہدایت حاصل کرنے کی
[1] مسنداحمد،الرقم:۱۴۶۸۵