کتاب: صبر جمیل - صفحہ 301
الیکٹرانک میڈیا یعنی انٹر نیٹ اور دیگر ذرائع ابلاغ نے فسادکا بیج بونے میں کوئی کسرباقی نہیں رکھی ہے۔ آج ہمارے لیے صبر کے علاوہ اور کوئی کارگر ہتھیار دستیاب نہیں ہے۔ اللہ کی اطاعت وفرماں برداری اور اس کی نافرمانی ومعصیت پر ہمارے لیے صبر کے علاوہ اس وقت اور کوئی چارہ کار نہیں۔ آج مصائب وآلام اور قضا وقدرپرصبر کرنا ہمارے لیے ازحد ضروری امر بن گیا ہے۔
تو اے عزم وارادے میں کمزور وناتواں انسان کان کھول کر سن لو!راستہ بڑا طویل ہے،جس کو عبورکرتے کرتے سیّدنا آدم علیہ السلام تھک گئے اور جس کے لیے سیّدنا نوح علیہ السلام کو بھی بڑی جدوجہد کرنی پڑی اور جس کی بنا پر سیّدنا ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا، اورسیّدنا اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کی غرض سے چھری کے نیچے لیٹنا پڑا،اورسیّدنا زکریا علیہ السلام پر آرا چلا دیا گیا، اور نفس پرضبط کرنے والے سیّدنا یحییٰ علیہ السلام کو ذبح کردیاگیا،اور جس کی مضرت رسانی کا سیّدنا ایوب علیہ السلام نے سامنا کیا ، اور سیّدنا داؤد علیہ السلام نے جس کی وجہ سے آہ وبکا کو اپنااوڑھنا بچھونا بنا لیا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس کی بنیادپر جادو گری اور جنون سے موسوم کرکے متہم کیاگیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک شہید کیے گئے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کاسرمبارک لہولہان کردیا گیا اور چہرے کو بے حال کردیا گیا،اور جس کی وجہ سے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ پر خنجر کا وارکرکے زخمی کیا گیا۔یہی وہ راستہ ہے جس کو عبورکرنے کی غرض سے ابن مسیب اور مالک رحمہما اللہ پر تکلیفوں کے پہاڑتوڑے گئے۔ یہ اور اس طرح کی صورتحال میں صبر کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔
یہ بات جان لو کہ صبر کرنا تم پر چاہے جتنا بھی شاق گزرے اور اس بارے میں تم کو چاہے جتنی بھی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں پھر بھی عدم صبر سے صبرہی آسان ہے،کیونکہ اللہ کی حرام کردہ چیزوں پر صبرکرنا اس بات سے کہیں زیادہ آسان اور سہل ہے کہ عذاب جہنم پر صبر کیاجائے اس لیے اللہ کی اطاعت وفرماں برداری پر صبر کرنا گلے میں جہنم کا طوق ڈالنے سے کہیں بہتراورافضل ہے۔
[1] ۔ ابوداؤد کتاب الملاحم ، باب الأمر والنہی :4341وصححہ الحاکم ووافقہ الذھبی۔