کتاب: صبر جمیل - صفحہ 300
لیے تو انہوں نے لوگوں کومصائب سے نپٹنے کے لیے صبر وتحمل سے کام لینے کی غرض سے ٹریننگ کرکے تیاری کا حکم دیا ہے۔‘‘[1] سیّدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کاقول ہے:’’صبر وتحمل سے کام لینے کی عادت ڈالو،کیونکہ ہوسکتا تم پر ناگہانی طورپر مصائب کا نزول ہونا شروع ہوجائے اور تم مصیبتوں میں مبتلا ہوجاؤ۔‘‘[2] سیّدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’جو شخص مصائب سے مقابلہ کے لیے صبر وتحمل سے مسلح ہوکر تیار نہ ہو تو وہ آزمائش کا مقابلہ نہیں کرسکتا بلکہ ایسا شخص اس کے سامنے عاجز ہوکر ہتھیارڈالنے پر مجبورہوجائے گا۔‘‘[3] کسی عربی شاعر کا قول ہے:’’اپنے آپ کو صبر جمیل کا عادی بناؤ اللہ کی قضا وقدرپر راضی برضا رہنا افضل ترین کام ہے اور پورے صبر وتحمل کے ساتھ ہدایت کے پرچم تلے ثابت قدمی کے ساتھ جم جاؤ اور صبر تو انسان کا افضل ترین توشہ ہے۔‘‘ ادیان سابقہ سے تعلق رکھنے والے صالحین اپنے بیٹوں اور اہل وعیال کوصبر کی وصیت کیا کرتے تھے۔ چنانچہ سیّدنا لقمان حکیم نے اپنے بیٹے کووصیت کرتے ہوئے اس بات پر زوردیا ہے کہ اللہ کے راستے میں جواذیتیں اورتکلیفیں پہنچیں اس پر صبر کرنا نہ بھولنا۔ فرماتے ہیں: (يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنكَرِ وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا أَصَابَكَ ۖ إِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ) (لقمان: 17) ’’اے میرے چھوٹے بیٹے! نماز قائم کر اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کر اور اس (مصیبت) پر صبر کر جو تجھے پہنچے، یقینا یہ ہمت کے کاموں سے ہے۔ ‘‘ آج ہمارا حال یہ ہے کہ دشمنوں اور اعدائے اسلام کی ہمارے اوپر یلغار ہے اور اہل ایمان و تقویٰ کو کمزور کرنے کی سازش کی جارہی ہے اور ملحدین اور زنادقہ دندناتے پھررہے ہیں اور