کتاب: صبر جمیل - صفحہ 296
کھڑاجلاد آپ کے سرپرٹھنا مارتا اور دوسراجلادکہتا: تمہارا ستیاناس ہو اے احمد! تم نے میراجواب نہیں دیا۔ مجھے جواب دو جس پر تمہاری گلوخلاصی منحصر ہے تاکہ میں تم کو آزاد کر دوں۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے:اے امیرالمؤمنین! مجھے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دلیل لاکر دکھادو جو کہ تمہارے قول کی تائید کرتی ہو تو میں اسے مان لوں گا۔ اس کے بعدجلاد آتا اور بے تحاشا مارتا پیٹتا اور مارپیٹ کی کاروائی چلتی رہتی حتی کہ جلادوں نے اتنا مارا، اتناماراکہ آپ پرغشی طاری ہوگئی اور بیڑیاں ہاتھوں میں پڑی ہوئی تھیں۔ اس کے بعدآپ کوہوش نہ رہا توایک شخص نے بتلایا کہ اس کے بعدہم نے آپ کو منہ کے بل اوندھا لٹادیا اور آپ کے جسم کے اوپر چٹائی ڈال دی اور اسے پیروں سے خوب روندا۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا مجھے اس کا ذرہ برابر احساس تک نہ ہوا۔اس کے بعدآپ رحمۃ اللہ علیہ کوجیل میں ڈال دیا گیاپھر(28)ماہ کے بعدآپ کو جیل سے رہائی مل پائی۔ اسلاف امت میں سے امام احمدبن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں کسی کا قول ہے:’’اللہ کے راستے میں اس شخص نے اپنے نفس کی پرواہ نہ کی اور اپنے نفس کو اللہ کے لیے بے دریغ تج دیا، ٹھیک اس طرح جس طرح سیّدنا بلال حبشی رضی اللہ عنہ نے دین کے راستے میں اپنے نفس کی پرواہ نہ کی تھی، لہٰذااگرامام احمد رحمۃ اللہ علیہ نہ ہوتے تواسلام کا نام ونشان مٹ جاتا۔‘‘[1] اگربندہ اسلاف میں سے اولوالعزم لوگوں کی سیرت اور کارناموں پر نظردوڑائے اور ان کی آزمائشوں کی یاد تازہ کرے تو یہ قصے اس کو صبر وتحمل کی راہ میں مددگارثابت ہوں اوراس کے پائے استقامت میں ثبات پیداکرنے کاسبب بن جائیں اور مصیبت وآزمائش پر جزع وفزع کرنے سے اسے روکنے اور باز رکھنے کا ذریعہ ثابت ہوں۔
[1] ۔ صفۃ الصفوۃ :2/87۔ [2] ۔ تاریخ بغداد :5/177