کتاب: صبر جمیل - صفحہ 295
کیا کہ ’’کیا ہمارے لیے مدد طلب نہیں فرمائیں گے؟کیاہمارے لیے غیبی امداد کی دعا نہیں کریں گے؟‘‘ تونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’سابقہ امتوں میں لوگوں کو گڑھا کھود کر اس میں گاڑدیاجاتا تھا اوران کے سرکے بیچ (مانگ کی جگہ پر) آری رکھ کردوٹکڑے کردیے جاتے تھے۔ اس کے باوجود کوئی چیز انہیں ان کے دین سے نہیں روک سکتی تھی اور لوہے کی کنگھیوں سے ان کے جسم کے گوشت کو کھینچ لیا جاتا تھا مگرپھر بھی یہ ایذا رسانی ان کو دین سے نہیں روک سکی تھی۔‘‘[1] حتی کہ ان کو ایذا پہنچانے والے مایوس ہوجاتے تھے اور تھک ہارکر بیٹھ جاتے تھے۔ اس کے بعد امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ’’اے اللہ! مجھے مامون کی صورت نہ دکھلا، چنانچہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ ابھی مامون کے سامنے پیشی کے لیے پہنچ بھی نہ پائے تھے کہ اس کا انتقال ہوگیا اور اس کا ولی عہد خلیفہ منتخب کیا گیا اور آزمائش جوں کی توں قائم رہی۔ ان میں سے بعض لوگوں نے کہا! اللہ کے لیے اپنے نفس پر رحم کھاؤ۔ یہ خلیفہ جو آیاہے یہ آپ کو تلوار سے قتل نہیں کرے گا لیکن آپ کو اتنا مارے گا اتنا مارے گا کہ آپ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ اس کے باوجود انہوں نے فتنہ خلق قرآن میں خلیفہ وقت کی ہاں میں ہاں ملانے سے انکارکردیا۔ خلیفہ وقت نے امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا:کیاآپ صالح رشیدی کو جانتے ہیں؟توامام صاحب نے جواب دیا:’’ان کے بارے میں سنا ہے‘‘ خلیفہ نے جواب دیا: وہ میرے مؤدب تھے۔ ان سے میں نے خلق قرآن کے بارے میں سوال کیاانہوں نے میری مخالفت میں جواب دیا،میں نے ان کواوندھے منہ زمین پر گھسیٹنے کا حکم دیا کہ ان کو اتنا گھسیٹاجائے کہ خودبخود موت واقع ہوجائے۔اس کے بعدامام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کی مشکیں کس دی گئیں اورجلادوں کوحاضر کیا گیا جلادوں میں ہر جلاد دو دو کوڑے لگاتا، اس کے بعد خلیفہ جھنجھلاکر کہتا: ان کی مشکوں کوخوب اچھی طرح کس دو۔ اس کے بعد دوبارہ پھر سے جلاد امام احمدرحمہ اللہ کے شانوں پر مارنا شروع کردیتے۔اس کے بعد پھرخلیفہ کہتا: اے احمد! اپنے آپ کو ہلاکت میں کیوں ڈال رہے ہو؟ میں تم پر شفیق اور مہربان ہوں۔ یہ بات سن کرامام صاحب کے سرپر