کتاب: صبر جمیل - صفحہ 294
باوجود اس وقت ان کی زبان پر بس یہ جملہ تھا ’’ہمیں اپنے اس سفر میں بڑے مصائب سے دوچارہوناپڑا۔‘‘اس کے بعد لوگوں نے یہ تجویزرکھی کہ آپ کو کوئی ایسی دوا پلادی جائے جو مخدرہو اورہوش وحواس کوزائل کرکے غم بھلادے تاکہ آپ کودرد والم محسوس نہ ہو آپ نے اس حرکت سے منع کردیا اورفرمایا:’’اللہ تعالیٰ نے مجھے ابتلا وآزمائش سے اسی لیے تو دوچارکیا ہے تاکہ وہ میرے صبرکے پیمانے کی پیمائش کرسکے۔‘‘[1]
سیّدنا جعفر بن محمد صائغ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’میں نے قتل ہوتے وقت سیّدنا احمدبن نصرخزاعی رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھاہے جب انہیں قتل کیاگیا توان کے تن سے جداسر سے (لاالہ الا اللّٰہ) یعنی کلمہ طیبہ کی صدا بلندہورہی تھی۔ یہ آپ کی کرامات میں سے ایک کرامت کی کرشمہ سازی ہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے بارے میں فرمایا ہے کہ انہوں نے اللہ کے راستے میں اپنی جان کانذانہ پیش کیا ہے۔‘‘ [2]
خود سیّدنا امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کی مثال لے لیں انہوں نے فتنہ خلق قرآن میں کیسے عظیم الشان اور بے مثال صبر کا مظاہرہ کیا ہے۔امام احمد اور ان کے ہمراہ محمدبن نوح رحمہمااللہ کومامون کے پاس لے جایاگیا مگراللہ کی مشیت کہ محمدبن نوح رحمۃ اللہ علیہ کوراستے ہی میں مرض لاحق ہوگیا۔ انہوں نے امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کو وصیت کی کہ وہ اس معاملہ میں صبر سے کام لیں اور یہ وصیت کرکے محمدبن نوح رحمۃ اللہ علیہ راستے ہی میں وفات پاگئے۔ چنانچہ امام احمد رحمہ اللہ کو پابہ سلاسل لایا گیا۔ خلیفہ وقت کے دربار میں حاضری سے قبل بعض لوگ امام صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کو تقیہ کی احادیث کی یاد دہانی کرانے لگے اور کہنے لگے کہ ابتلا اورشدت کے وقت انسان کے لیے عین ممکن ہے کہ وہ توریہ سے کام لے حتی کہ آزمائش کی آندھی ٹل جائے توامام صاحب رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ تم سیّدنا خباب رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا توجیہ کروگے؟ اس سے مراد سیّدنا خباب رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث ہے جس میں واردہواہے: وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کی اور شکوہ کرتے ہوئے عرض
[1] ۔ صحیح بخاری ، کتاب المغازی :3989