کتاب: صبر جمیل - صفحہ 293
پر طرہ یہ کہ بڑی زرق برق پوشاک میں ملبوس ہوکرقصرشاہی میں داخل ہوا۔ اسے دیکھ کر خلیفہ وقت ولید نے کہا کہ قریش کے نوجوان تو اس طرح ہوتے ہیں، جس طرح محمد ہیں!! اور اس نے اس نوخیزنوجوان کے لیے برکت کی دعا نہ کی۔ یہ کہناتھا کہ محمدبن عروہ بن زبیر رحمۃ اللہ علیہ کو اس کی نظر لگ گئی۔ اس کے بعد محمدبن عروہ بن زبیر رحمۃ اللہ علیہ ولیدکی مجلس سے باہر نکلے اورچوپایوں کے اصطبل میں آکر گرپڑے اور گرنے کے بعد وہاں سے اٹھ نہیں پائے، بس اصطبل میں پڑے رہے حتی کہ چوپایوں نے انہیں وہیں بھوسے کی طرح روندڈالا۔ جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوگئی۔
اس کے بعدسیّدنا عروہ بن زبیر رحمۃ اللہ علیہ کے پاؤں میں ’’غرغرینہ‘‘ نامی بیماری کاعارضہ لاحق ہوگیا۔ڈاکٹروں یاحکیموں نے ایک پاؤں کوکاٹ کر الگ کرنے کی تجویز پیش کی اوریہ طے پایا کہ اسے آری کے ذریعہ کاٹ کر تن سے جداکردیا جائے تاکہ جسم کے دوسرے حصہ میں اس کے زہریلے اثرات سرایت نہ کرسکیں۔ اگر پیر کاٹا نہ گیا تویہ ان کی موت کا سبب بن سکتا ہے۔ لہٰذااسے ڈاکٹروں کی تجویز کے مطابق کاٹاجانے لگا۔ جب آری ہڈی کاٹنے کی حد تک پہنچی تواس موقع پر سیّدنا عروہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپناسر تکیہ پر رکھ لیا اور ان پر غشی کی کیفیت طاری ہو گئی۔ جب افاقہ ہوا تو چہرے سے پسینہ بہہ رہا تھا۔ مارے پسینہ کے شرابور تھے اور تکبیر وتہلیل اور اللہ کے ذکر سے رطب اللسان تھے۔ پھرکٹے ہوئے پیر کوہاتھ میں لیا اوراسے الٹنے پلٹنے لگے اور ہاتھ میں لیے اسے بوسہ دینے لگے اور کہنے لگے کہ جہاں تک اس ذات کا تعلق ہے جس نے تجھے میری خدمت کے لیے مسخر کیا تھا۔ وہ بخوبی جانتا ہے کہ میں کبھی حرام کاری کی طرف تیرے دوش پر سوارہوکر نہیں گیا اور نہ کسی معصیت ونافرمانی کے لیے میں چل کرگیا اور نہ ہی میں نے کبھی اللہ کی ناراضگی کی طرف قدم اٹھایا۔ اس کے بعد حکم دیا کہ اسے غسل دیا جائے اور اسے خوشبوؤں میں معطر کیا جائے اور اسے کفن پہناکرآراستہ کیا جائے اور اس کوقبر میں لے جاکر دفنادیا جائے۔ اس حادثہ کے بعد جب سیّدنا عروہ رحمۃ اللہ علیہ سفرسے واپس تشریف لائے جبکہ پاؤں کاٹ کرتن سے جداکیاجاچکا تھا اور اپنے بیٹے سے محروم ہوچکے تھے۔ اس کے
[1] ۔ رواہ الحاکم :5666وقال:صحیح علیٰ شرط مسلم ولم یخرجاہ ووافقہ الذھبی۔