کتاب: سعادۃ الدارین ترجمہ تعلیقات سلفیہ برتفسیر جلالین - صفحہ 99
ہے،اکثر نسخوں میں [1]جو لفظ ہے وہی صحیح ہے یعنی(الخزر)جو کہ در اصل خزر العیون پہاڑ ہے،یہاں اس سے مراد تاتاری ہیں۔(حاشیۃالجمل) سورۃ ص ﴿وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّاہُ۔۔۔۔﴾ أو قعناہ فی فتنۃ أی بلیۃ،بمحبتہ تلک المرأۃ(۹۲۷ /۳۸۱) ٭ یہ قصہ انبیائے کرام کے شرف و فضل کے منافی ہے،لہذا حضرت داود علیہ السلام کی طرف اس کی نسبت محل نظر ہے۔بظاہر یہ قصہ ان یہودیوں کا تصنیف کردہ ہے جنہوں نے اپنے انبیاء کی طرف چوری اور زنا کاری جیسے افعال قبیحہ کی نسبت کی ہے،حضرت داود علیہ السلام کی طرف جو کچھ منسوب کیا گیا ہے اس کا صدور ان سے نہیں ہوا ہے،بلکہ دونوں فریق نے جو بات پیش کی وہ ان کی آپسی لڑائی کی حقیقی تصویر تھی،وہ کوئی مفروضہ یا مثال نہیں تھی،اور حضرت داود کا استغفار اور سجدہ اپنی رعایا کے تعلق سے ہونے والی ان کی تقصیر پر تھا اور وہ تقصیر یہ تھی کہ وہ عبادت میں مشغول رہے اور لوگوں کے مسائل حل کرنے کا کام چھوڑ دیا،جب کہ حاکم کی ذمہ داری ہے کہ عبادت اور حکومت(ثالثی)میں سے کسی ایک کو دوسرے سے غافل کرنے کی نوبت نہ آنے دے۔(ص) ﴿رُدُّوہَا عَلَیَّ۔۔۔﴾ حیث اشتغل بہا عن الصلاۃ۔ (۹۲۹ /۳۸۲) ٭ آیات مذکورہ کی جو تفسیر امام محلی نے کی ہے وہ بظاہر درست نہیں ہے،سلیمان علیہ السلام سے عصر کی نماز فوت نہیں ہوئی تھی،اور﴿إِنِّیْ أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَن ذِکْرِ رَبِّیْ﴾کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اپنے رب کے ذکر ہی کے واسطے گھوڑوں سے محبت کی تھی،یعنی جہاد فی سبیل اللہ اور زمین پر اللہ کے دین کے غلبہ کے لیے ایسا کیا تھا،مال جمع کرنے اور ریاء و فخر کے لیے نہیں،اور﴿حَتَّی تَوَارَتْ بِالْحِجَاب﴾کامعنی سورج کا [1] ہندستانی نسخہ میں(الخزر)ہی مندرج ہے۔(م)