کتاب: سعادۃ الدارین ترجمہ تعلیقات سلفیہ برتفسیر جلالین - صفحہ 96
صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ تبنی کی عادت و رواج کو ختم کرنے کے لیے آپ کو حضرت زینب سے نکاح کی آزمائش میں مبتلا ہونا ہوگا،یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے سے اس نکاح کے بارے میں آپ کو خبر دے دی ہو،بہر حال جب حضرت زید نے اپنا مذکورہ ارادہ ظاہر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اندازہ لگ گیا کہ اب اس نکاح کا وقت قریب آچکا ہے،آپ یہ بھی سمجھ رہے تھے کہ جب آپ یہ نکاح کریں گے تو منافقین اور شورش پسند آپ کے خلاف پروپیگنڈے کریں گے،تو ان لوگوں سے آپ کو یہی خوف تھا جسے آپ نے اپنے دل میں چھپا رکھا تھا،اور حضرت زید کو مشورہ دیا کہ اپنی اہلیہ کو روکے رکھیں اور اللہ سے ڈریں،آپ یہ چاہتے تھے کہ حضرت زید طلاق ہی نہ دیں کہ آپ کو اس آزمائش میں مبتلا ہونا پڑے،اسی بات پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو متنبہ کیا ہے(ص) ﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُیُوتَ النَّبِیِّ۔۔وَاللّٰهُ لَا یَسْتَحْیِیْ﴾ وقریٔ یستحي،بیاء واحدۃ(۸۶۷ /۳۵۷) ٭ یہ شاذ قراء ت ہے۔ ﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا تَکُونُوا کَالَّذِیْنَ آذَوْا مُوسَی﴾ بأن وضع ثوبہ۔۔۔فرأوہ لا أدرۃ بہ (۸۷۱ /۳۵۸) ٭ بخاری(۲۷۸)مسلم(۳۳۹) ﴿وَکَانَ عِندَ اللّٰهِ وَجِیْہاً﴾ ومما أوذي بہ نبینا۔۔۔۔رواہ البخاری۔ (۸۷۱ /۳۵۸) ٭ بخاری(۳۴۰۵)مسلم(۱۰۲۶) سورۃ سبأ ﴿یَعْمَلُونَ لَہُ مَا یَشَاء ُ مِن مَّحَارِیْبَ وَتَمَاثِیْلَ۔۔۔﴾