کتاب: سعادۃ الدارین ترجمہ تعلیقات سلفیہ برتفسیر جلالین - صفحہ 90
٭ ’’یقعقع‘‘ بمعنی ’’یصوت‘‘ یعنی اس سے آواز نکلتی ہے(حاشیۃ الجمل) سورۃ الفرقان ﴿أَصْحَابُ الْجَنَّۃِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرّاً۔۔﴾ وأخذ من ذلک انقضاء الحساب۔۔۔کما ورد فی حدیث(۷۴۱) ٭ یہ ابن ابی حاتم(۸ /۲۶۸۰-۲۶۸۱)میں ابن مسعود،سعید بن جبیر اور عکرمہ سے منقول ہے۔ سورۃ الشعراء ﴿قَالَ آمَنتُمْ لَہُ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَکُمْ۔۔۔۔﴾ بتحقیق الھمزتین وإبدال الثانیۃ ألفا۔(۷۵۵ /۳۱۱) ٭ حاشیۃ الجمل میں ہے کہ ’’إبدال الثانیۃ‘‘ کے بجائے ’’إبدال الثالثۃ‘‘ کہنا درست ہوگا کیونکہ تیسرا ہمزہ ہی الف سے بدلا ہے۔اس طرح مصنف کے کلام میں ایک ہی قراء ت کا تذکرہ ہے۔ ﴿فَأَسْقِطْ عَلَیْْنَا کِسَفاً۔۔﴾ بسکون السین و فتحہا:قطعۃ(۷۶۶ /۳۱۵) ٭ سین کے جزم کے ساتھ جو قراء ت ہے یہ(قطعۃ)اس کی تفسیر ہے،سین کے فتحہ کے ساتھ جو قراء ت ہے اس کی تفسیر(قِطَعا)ہوگی،یعنی قطع عذاب من السماء۔ (حاشیۃ الجمل) ﴿وَأَنذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْأَقْرَبِیْنَ﴾ وھم بنو ھاشم و بنو عبد المطلب،وقد أنذرھم جہارا،رواہ البخاری ومسلم (۷۶۸ /۳۱۶) ٭ بخاری(۴۷۷۰)مسلم(۲۰۴)