کتاب: سعادۃ الدارین ترجمہ تعلیقات سلفیہ برتفسیر جلالین - صفحہ 88
﴿وَإِن یَسْلُبْہُمُ الذُّبَابُ شَیْْئاً۔۔﴾ من الطبیب والزعفران الملطخون بہ۔ (۶۹۸ /۲۸۶) ٭ حاشیۃ الجمل میں ہے کہ ’’الملطخون بہ‘‘ ’’الطیب والزعفران‘‘ کی نغت سببی(صفت)ہے اور یہ دونوں لفظ حالت جر میں ہیں،لہذامصنف کو ’’الملطخین بہ‘‘ کہنا چاہیے تھاجیسا کہ ظاہر ہے۔ سورۃ المؤمنون ﴿فَمَنِ ابْتَغَی وَرَاء ذَلِکَ۔۔﴾ من الزوجات والسراری- کالاستمناء بالید-۔۔۔فی اتیا نہن (۷۰۰ /۲۸۷) ٭ قولہ: ’’فی اتیا نہن‘‘ بعض نسخوں میں یہ لفظ موجود نہیں ہے۔[1] ﴿قُلْ مَن رَّبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ﴾ الکرسي (۷۱۱ /۲۹۲) ٭ سورہ توبہ کی آیت نمبر(۱۲۹)میں اس بات پر تنبیہ ہو چکی ہے کہ عرش کرسی سے الگ چیز ہے۔ ﴿قَالَ اخْسَؤُوا فِیْہَا﴾ (قال)لہم بلسان مالک بعد قدر الدنیا مرتین(اخسؤا فیہا) (۷۱۴ /۲۹۳) ٭ ابن ابی حاتم(۱۴۰۴۷)۸ /۲۵۰۹۔نے اس کو عبد اللہ بن عمرو سے موقوفا روایت کیا ہے۔ ﴿فَتَعَالَی اللّٰهُ الْمَلِکُ۔۔۔۔﴾ [1] ہندستانی نسخہ میں بھی ’’فی اتیانہن‘‘ نہیں ہے۔(م)