کتاب: سعادۃ الدارین ترجمہ تعلیقات سلفیہ برتفسیر جلالین - صفحہ 85
وفسرت فی الحدیث بعذاب الکافر فی قبرہ۔ (۶۵۷ /۲۶۸) ٭ اس حدیث کو بروایت ابو ہریرہ ابن ابی حاتم(۱۳۵۶۵)۷ /۲۴۳۹۔نے بیان کیا ہے۔ابن کثیر(۳ /۱۸۳۳)نے اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد کہا ہے کہ اس کو مرفوع ٹھہرانا حد درجہ منکر ہے،ابن ابی حاتم(۷ /۲۴۴۰)نے حضرت ابو سعید کی ایک روایت ذکر کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ(فإن لہ معیشۃ ضنکا)کی تفسیر میں فرمایا کہ یہ قبر کا دبوچنا ہے،ابن کثیر(۳ /۱۸۳۳)کہتے ہیں کہ موقوف روایت زیادہ صحیح ہے۔ سورۃ الأنبیاء ﴿فَسُبْحَانَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُونَ﴾ العرش:الکرسی(۶۶۳ /۲۷۱) ٭ عرش کرسی کے علاوہ شی کا نام ہے۔ملاحظہ ہو سورہ توبہ کی آیت نمبر(۱۲۹)کی تفسیر کا حاشیہ۔ ﴿وَأَدْخَلْنَاہُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا إِنَّہُم مِّنَ الصَّالِحِیْنَ﴾ وسمي ذاالکفل۔۔۔۔فو فی بذلک (۶۷۵ /۲۷۶) ٭ مصنف نے سور ہ : ص کی آیت نمبر(۴۸)کی تفسیر میں ’’ذوالکفل‘‘ کی وجہ تسمیہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلہ میں یہ کہا گیا ہے کہ سو(۱۰۰)انبیاء قتل سے نجات حاصل کر نے کے لیے فرار ہو کے ان کے پاس آئے تھے اور ان کی انہوں نے کفالت کی تھی اس لئے انہیں ذوالکفل کہا جاتا ہے۔