کتاب: سعادۃ الدارین ترجمہ تعلیقات سلفیہ برتفسیر جلالین - صفحہ 74
منزہ وبرتر ہے،اور اپنی ذات کے ساتھ اپنی مخلوق کے اوپر وہ بلند وبالا ہے،اللہ تعالیٰ ان تینوں طریقوں سے(متعال)بلندو برتر ہے،لہذا اس کے ’’علو‘‘ کو کسی ایک نوع یا طریقہ پر منحصر نہیں کرنا چاہیے۔ ﴿وَیُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہِ۔۔﴾ نزل فی رجل بعث اِ لیہ۔۔۔۔فذھبت بقحف رأسہ۔(۵۱۳ /۲۰۱) ٭ مسندابویعلی :۳۳۴۱،۶ / ۸۷،۔ہثیمی کہتے ہیں :اس کو ابویعلی اور بزار نے روایت کیا،بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔سوائے دیلم بن غزوان کے،وہ بھی ثقہ ہیں۔اور ابو یعلی اور طبرانی کے رجال میں علی بن ابو سارہ ہیں جو ضعیف ہیں۔(مجمع الزوائد :۷ /۴۲) ﴿لَہُ دَعْوَۃُ الْحَقِّ وَالَّذِیْنَ یَدْعُونَ۔۔﴾ بالیاء والتاء(۵۱۴ /۲۰۲) ٭ تاء کے ساتھ پڑھی جانے والی قراء ت شاذ ہے۔ سورۃ ابراھیم ﴿یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ آمَنُواْ۔۔﴾ لما یسألہم الملکان۔۔۔۔کما فی حدیث الشیخین(۵۳۰ /۲۰۸) ٭ بخاری(۱۳۳۸)مسلم(۲۸۷۰)باختصار ﴿وَارْزُقْہُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّہُمْ یَشْکُرُون﴾ وقد فعل بنقل الطائف الیہ (۵۳۲ /۲۰۹) l اس سے ان آثار کی طرف اشارہ ہے جو ابن عباس سے مروی ہیں(جیسا کہ