کتاب: سعادۃ الدارین ترجمہ تعلیقات سلفیہ برتفسیر جلالین - صفحہ 70
واضح ہے۔[1] ﴿لَہُمُ الْبُشْرَی فِیْ الْحَیْاۃِ الدُّنْیَا۔۔﴾ فسرت فی حدیث۔۔۔؛۔أو تری لہ(۴۴۴ /۱۷۶) ٭ مستدرک حاکم(۳۳۰۲)۲ /۳۴۰ ﴿فَإِن کُنتَ فِیْ شَکٍّ۔۔﴾ قال النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم :’’لا أشک ولا أسأل‘‘(۴۵۱ /۱۷۸) ٭ تفسیر طبری :(۱۷۹۰۷،۱۷۹۰۸)سورہ یونس:۹۴ سورۃ ھود ﴿أَلا إِنَّہُمْ یَثْنُونَ صُدُورَہُمْ۔۔۔۔﴾ نزل کما رواہ البخاری۔۔۔فیفضی إلی السماء۔(۴۵۵ /۱۸۰) ٭ بخاری(۴۶۸۲) ﴿وَقَالَ ارْکَبُواْ فِیْہَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرَاہَا وَمُرْسَاہَا﴾ بفتح المیمین وضمہما(۴۶۵ /۱۸۳) ٭ دونوں میم کے فتحہ کے بارے میں حاشیۃ الجمل میں کہا ہے کہ یہ تساہل ہے،دونوں میم کو فتحہ کے ساتھ پڑھنا شاذ قراء ت ہے،قراء ت سبعہ میں یا تو دونوں میم کو ضمہ سے پڑھا گیا ہے یا پہلی کو فتحہ اور دوسری کوضمہ سے۔الخ ﴿فَلَمَّا جَاء أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَہَا سَافِلَہَا۔۔﴾(۴۷۴ /۱۸۶) أی بأن رفعہا جبریل إلی السماء وأسقطہا مقلوبۃإلی الأرض۔ ٭ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد چھت کو زمین پر گرانا ہے نہ کہ آسمان تک لے [1] ہندستانی نسخہ میں(فلم یقدروا)یاء کے ساتھ ہی ثبت ہے۔(م)