کتاب: سعادۃ الدارین ترجمہ تعلیقات سلفیہ برتفسیر جلالین - صفحہ 66
مہینہ کیسے ہو گا؟(ص) ﴿وَأَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُولِہِ۔۔﴾ وقد بعث النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم علیا من السَنۃ۔(۳۸۷ /۱۵۵) ٭ یعنی جس سال یہ سورہ نازل ہوئی۔ ۔۔۔۔ولا یطوف بالبیت عریان،رواہ البخاری(۳۸۷ /۱۵۵) ٭ بخاری(۳۶۹) ﴿إِنَّمَا النَّسِیْء ُ زِیَادَۃٌ فِیْ الْکُفْرِ﴾ إذَاھَلّ وھم فی القتال(۳۹۸ /۱۵۸) ٭ ھَلّ [1]: أی ظہر الہلال۔چاند کا نمودار ہونا۔ ﴿أَلاَ فِیْ الْفِتْنَۃِ سَقَطُواْ۔۔﴾ وقریٔ: سَقَطَ(۴۰۲ /۱۶۰) ٭ یہ غیر مشہور قراء ت ہے۔ ﴿إِن نَّعْفُ عَن طَآئِفَۃٍ مِّنکُمْ﴾ کجحش بن حُمیّر۔۔(۴۰۷ /۱۶۲) ٭ حمیّر،حمارکی تصغیر ہے،جحش بن حمیر اسلام لائے اور بہتر کارکردگی دکھلائی،جنگ یمامہ میں وفات پائی،ایک نسخے میں(مخشی بن حمیر)ہے[2] ابن اسحاق سے مروی ہے کہ معاف کیا جانے والا ایک ہی شخص تھا،عرب والے واحد کے لیے جمع کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔(حاشیۃ الجمل) ﴿وَمِنْہُم مَّنْ عَاہَدَ اللّٰهَ۔۔۔﴾ ھو ثعلبۃ بن حاطب۔۔۔ومنع الزکاۃ۔(۴۱۱ /۱۶۳) [1] ہندستانی نسخے میں ھلَّ کے بجائے أھلَّ ہے(م) [2] ہندستانی نسخہ میں بھی مخشی بن حمیر ہی ہے(م)