کتاب: سعادۃ الدارین ترجمہ تعلیقات سلفیہ برتفسیر جلالین - صفحہ 57
ہے،واللّٰه أعلم[1] ﴿وَسِعَ رَبِّیْ کُلَّ شَیْْء ٍ عِلْماً أَفَلاَ تَذَکَّرُون﴾ہذا فتومنون۔(۲۸۷ /۱۱۹) ٭(فتومنون)معطوف ہے،نفی کا جواب نہیں ہے،ورنہ منصوب ہوتا جیسا کہ حاشیۃ الجمل کے حوالے سے پہلے گذر چکا ہے۔ ﴿الَّذِیْنَ آمَنُواْ وَلَمْ یَلْبِسُواْ إِیْمَانَہُم بِظُلْمٍ۔۔۔۔﴾ بشرک،کما فسر بذلک فی حدیث الصحیحین(۲۸۸ /۱۱۹) ٭ بخاری(۴۶۲۹)مسلم(۲۴) ﴿وَمَا قَدَرُواْ اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِہِ۔۔۔۔﴾ یجعلونہ: بالیاء والتاء فی المواضع الثلاثۃ(۲۹۰ /۱۲۰) ٭ یعنی(یجعلون،یبدون،یخفون)تینوں میں ابن کثیر اور ابو عمرو نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ﴿لَقَد تَّقَطَّعَ بَیْْنُکُمْ۔۔۔۔۔۔﴾(۲۹۱ /۱۲۱) ٭(بَیْنُکُمْ)نون کے ضمہ کے ساتھ ابن کثیر،ابوعمرو،ابن عامر اور ابوبکر عن عاصم کی قراء ت ہے۔ ﴿وَہُوَ الَّذِیَ أَنشَأَکُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ فَمُسْتَقِرٌّ۔۔۔۔﴾(۲۹۲ /۱۲۱) ٭(مُسْتَقِرٌّ)قاف کے کسرے کے ساتھ ابن کثیر اور ابو عمرو کی قراء ت ہے۔ ﴿انظُرُواْ إِلِی ثَمَرِہِ إِذَا أَثْمَرَ وَیَنْعِہِ۔۔۔۔۔۔﴾ یا مخاطبین(۲۹۳ /۱۲۱) ٭(مخاطبین)نکرہ غیر معینہ ہونے کی بنا پر(حالت نصب میں)ہے،بعض نسخوں میں ’’مخاطبون‘‘ ہے جو کہ واضح ہے۔ [1] ہندستانی نسخے میں(عند القراء)قاف ہی سے ہے۔(م)