کتاب: سعادۃ الدارین ترجمہ تعلیقات سلفیہ برتفسیر جلالین - صفحہ 47
٭ حاشیۃ الجمل میں ہے کہ فتیل کی مذکورہ تفسیر سبقت قلم کا نتیجہ ہے،کیونکہ یہ تو قطمیرکی تفسیر ہے،فتیل تو کھجور کی گٹھلی کے شگاف میں طول میں جو چیز ہوتی ہے اسے کہتے ہیں۔ ﴿إِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُکُم بِہِ۔۔۔﴾نعماّ: فیہ ادغام میم ’’نعم‘‘ فی ’’ما‘‘ النکرۃ المرصوفۃ،ای نعم شیئا۔(۱۸۷ /۷۹) ٭ اور عین کا کسرہ جوار کی وجہ سے ہے،واللّٰه أعلم،اور حاشیۃ الجمل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اصل میں ’’نَعِمَ‘‘ بروزن ’’عَلِمَ‘‘ ہے،نون کا کسرہ عین کے کسرہ کے اتباع میں آیا ہے۔ ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَہُمْ کُفُّواْ أَیْْدِیَکُمْ۔۔۔۔۔﴾ ولا تظلمون فتیلا۔قدر قشرۃ النواۃ۔(۱۹۳ /۸۱) ٭(اسی سورہ کی)آیت نمبر(۴۹)کی تفسیر میں یہ بات گزر چکی ہے کے فتیل گٹھلی کے شگاف میں موجود دھاگہ نما حصہ کو کہتے ہیں۔[1] ﴿فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لاَ تُکَلَّفُ إِلاَّ نَفْسَکَ﴾ فلا تھتم(بتخلفہم)عنک۔(۱۹۵ /۸۲) ٭ ایسے(بتخلفہم)ہی بعض نسخوں میں ہے،اور اصل نسخہ میں(بتخلیطہم)ہے۔ ﴿فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لاَ تُکَلَّفُ إِلاَّ نَفْسَکَ۔۔۔۔﴾ فخرج بسبعین راکبا إلی بدر الصغری۔(۱۹۵ /۸۲) ٭ سیرت نگاروں کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلنے والوں کی تعداد(۱۵۰۰)ایک ہزار پانچ سو تھی۔(ص) ﴿وَمَن یَقْتُلْ مُؤْمِناً مُّتَعَمِّداً۔۔۔﴾ [1] ملاحظہ ہو ں اسی صفحہ کی ابتدائی سطور