کتاب: سعادۃ الدارین ترجمہ تعلیقات سلفیہ برتفسیر جلالین - صفحہ 41
٭ اصل نسخے میں ایسے ہی ہے(یعنی: الذي)حالانکہ آیت میں ’’الذین‘‘ مذکور ہے۔حاشیۃ الجمل میں ہے کہ: یہ حکایت بالمعنی ہے،کیوں کہ آیت میں ’’الذین‘‘ ہے،لیکن دونوں کا حکم ایک ہے۔۱ھ[1] ﴿إِنَّ أَوَّلَ بَیْْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ۔۔﴾ ’’ وبینہما أربعون سنۃ کما في حدیث الصحیحین‘‘(۱۳۷ /۵۶) ٭ بخاری(۳۳۶۶)مسلم(۵۲۰)بروایت ابو ذر،البتہ اس میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ اسے فرشتوں نے بنایا۔ ﴿إِنَّ أَوَّلَ بَیْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ﴾ وفي حدیث : ’’أنہ أول ما ظہر۔۔۔۔۔۔فدحیت الأرض من تحتہ‘‘(۱۳۷ /۵۶) ٭ تفسیر طبری(۷۴۲۶،۷۴۲۷)۳ /۳۵۵،دو طریق سے یہ روایت آئی ہے: عبد اللہ بن عمرو اور مجاہد سے،اور ان ہی دونوں پر موقوف ہے۔ ﴿فِیْہِ آیَاتٌ بَیِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاہِیْمَ﴾ ’’۔۔۔۔وأن الطیر لا یعلوہ‘‘(۱۳۷ /۵۷) ٭ پرندوں کے خانہ کعبہ کے اوپر سے نہ گزرنے کی بات درست نہیں ہے،کیوں کہ دیکھا جاتا ہے کہ پرندے اس کے اوپر جاتے ہیں اور اس کی چھت پر بیٹھتے ہیں۔(ص) ﴿وَلِلّٰهِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیْلاً﴾ فسرہ صلی اللّٰه علیہ وسلم بالزاد والرحلۃ۔(۱۳۷ /۵۷) ٭ مستدرک حاکم(۱۶۱۳،۱۶۱۴)۱ /۴۴۲۔ابن ماجہ(۲۸۹۶)بروایت ابن عمر، [1] ہندستانی نسخہ میں الذین ہی مندرج ہے،مگر لگتا ہے وہ بھی در اصل الذی ہی تھا،کیوں کہ اس نسخہ میں یہاں پر حاشیہ لگا کر اس طرح لکھا گیا ہے:(فیہ حکایۃ بالمعنی،اذ المذکور فی الآیۃ الذین،ولکن حکمھما واحد۔جمل)(م)