کتاب: سعادۃ الدارین ترجمہ تعلیقات سلفیہ برتفسیر جلالین - صفحہ 36
اہل سنت والجماعۃ بغیر کسی تشبیہ اور بغیر کسی تاویل کے ثابت کرتے ہیں،اور ان صفات کو ان ہی معانی میں لیتے ہیں جو اللہ کے شایان شان ہیں۔(ص) ﴿وَأَن تَصَدَّقُواْ خَیْْرٌ لَّکُمْ إِن کُنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾ فی الحدیث:من انظر معسرا۔۔۔لاظل الا ظلہ۔رواہ مسلم(۱۰۷ /۴۴) ٭ مسلم(۳۰۰۶) ﴿إِلاَّ أَن تَکُونَ تِجَارَۃً حَاضِرَۃً﴾وفی قراء ۃ بالنصب(۱۰۹ /۴۴) ٭ یہ(نصب والی قراء ت)عاصم کی قراء ت ہے۔ ﴿وَإِن کُنتُمْ عَلَی سَفَرٍ وَلَمْ تَجِدُواْ کَاتِباً فَرُہُنٌ۔۔۔۔﴾(۱۱۰ /۴۵) ٭ یہ(فَرُھُنٌ)ابن کثیر اور ابو عمرو کی قراء ت ہے۔[1] ﴿رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِیْنَا أَوْ أَخْطَأْنَا﴾ وقد رفع اللّٰه ذلک عن ھذہ الأمۃ کما ورد فی الحدیث۔(۱۱۱ /۴۵) ٭ مسلم(۱۲۵) ﴿أَنتَ مَوْلاَنَا فَانصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ﴾ لما نزلت ھذہ الآیۃ فقرأھا صلی اللّٰه علیہ وسلم قیل لہ عقب کل کلمۃ: قد فعلت۔ ٭ مسلم(۱۲۶)(۱۱۱ /۴۵) ٭٭٭٭٭ [1] ہندستانی نسخہ میں پہلے رِھَان اور اس کے بعد رُھُنٌ والی قراء ت بتائی گئی ہے۔حالاں کہ اس کے بر عکس ہونا چاہیے۔(م)