کتاب: سعادۃ الدارین ترجمہ تعلیقات سلفیہ برتفسیر جلالین - صفحہ 29
اور چرند وپرند ان کے قبضے میں رہتے تھے اس کی وجہ وہ کلمات ومنتر ہیں جو وہ پڑھا کرتے تھے،اور یہ کہ ان میں بعض کلمے ہم بھی جانتے ہیں،جو ان کو سیکھے گا اور پڑھے گا اس کو بھی اسی طرح کا تسلط(کنٹرول)حاصل ہوگا،پس لوگوں نے انہیں سیکھنے میں دلچسپی دکھائی،حالانکہ یہ جادو والے اور کفریہ کلمات تھے(بظاہر قرآن سے یہی معلوم ہوتا ہے،جبکہ اسرائیلی روایتوں کا بیان انبیاء کے مقام ومرتبہ سے میل نہیں کھاتا۔(ص) ﴿وَاتَّبَعُواْ مَا تَتْلُواْ الشَّیَاطِیْنُ۔۔۔۔﴾ انظروا إلی محمد یذکر سلیمان في الأنبیاء(۴۴ /۱۵) ٭ ایک نسخہ میں اس طرح ہے(مایذکر سلیمان في الأنبیاء) ﴿مَا نَنسَخْ مِنْ آیَۃٍ أَو نَنْسَأھَا﴾[1](۴۶ /۱۶) ٭ یہ(نَنْسَأھَا)ابن کثیر اور ابو عمرو کی قراء ت ہے۔ ﴿وَقَالُواْ لَن یَدْخُلَ الْجَنَّۃَ إِلاَّ مَن کَانَ ہُوداً أَوْ نَصٰرَی﴾ قال ذلک یہود المدینۃ ونصاری نجران لما تناظروا بین یدی النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم۔(۴۷ /۱۶) ٭ تفسیر طبری(۱۸۱۳۔البقرۃ:۱۱۳)اس کی سند میں محمد بن ابو محمد ہیں جو مجہول راوی ہیں۔ ﴿فَأَیْنَمَا تُوَلُّواْ فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰهِ﴾قبلتہ التي رضیہا۔(۴۸ /۱۸) ٭ وجہ کی تفسیر قبلہ سے کرنا صفت’’ وجہ‘‘ کی تعطیل اور نفی ہے،سلف کا مذہب یہ ہے کہ’’ وجہ‘‘ اللہ کی حقیقی صفات میں سے ہے جو اس کے شایان شان ہیں۔وجہ سے وجہ ہی مراد لیا جائے گا،اس کی ایسی تاویلات نہیں کی جائیں گی جواس کو اس کے معنی ہی سے خارج کردیں۔(ص) ﴿فَإِنْ آمَنُواْ بِمِثْلِ مَا آمَنتُم﴾مثل زائد(۵۴ /۲۰) [1] ہندستانی نسخہ میں(نُنْسِھَا)مندرج ہے۔حالاں کہ تفسیر میں(نَنْسَأھَا)مقدم ہے۔(م)