کتاب: سعادۃ الدارین ترجمہ تعلیقات سلفیہ برتفسیر جلالین - صفحہ 28
﴿تَفْدُوْہُمْ﴾[1](۳۸ /۱۳) ٭ یہ ابن کثیر،ابو عمرو،ابن عامر اور حمزہ کی قراء ت ہے۔ ﴿وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُونَ﴾بالیاء والتاء(۳۹ /۱۳) ٭ یہ(یعملون)نافع،ابن کثیر اور ابوبکر بن عیاش عن عاصم کی قراء ت ہے۔ ﴿أَن یُنْزِلَ اللّٰهُ مِن فَضْلِہِ﴾بالتخفیف والتشدید۔(۴۰ /۱۴) ٭ یہ(یُنْزِل،بالتخفیف)ابن کثیر اور ابوعمرو کی قراء ت ہے۔ ﴿قُلْ مَن کَانَ عَدُوّاً لِّجِبْرِیْلَ۔۔۔۔﴾ سبب نزول:وسأل ابن صوریا النبی۔۔۔۔والسلم(۴۳ /۱۵) ٭ امام طبری نے اپنی تفسیر میں اسی تعلق سے کئی روایتیں ذکر کی ہے(البقرۃ: ۹۷)اور امام بخاری نے اس طرح کی بات حضرت انس سے روایت کی ہے جو عبد اللہ بن سلام کے بارے میں ہے جو ان کے اسلام لانے سے پہلے کی بات ہے،لیکن اس میں یہ نہیں ہے کہ یہی آیت کا سبب نزول ہے۔(بخاری،کتاب التفسیر:۴۴۸۰) ﴿وَاتَّبَعُواْ مَا تَتْلُواْ الشَّیَاطِیْنُعَلَی مُلْکِ سُلَیْمَانَ۔۔۔۔﴾ من السحر،وکانت دفنتہ تحت کرسیہ۔۔۔إلی قولہ : ورفضوا کتب أنبیائھم۔(۴۴ /۱۵) ٭ سلیمان علیہ السلام کی سلطنت سے متعلق یہ تفصیلات،اسرائیلیات کے قبیل سے ہیں اور ان کی صحت کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ چونکہ سلیمان علیہ السلام کی سلطنت بڑی عظیم الشان اور بے نظیر تھی اس لیے ان کے بعد شیطانوں نے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ سلیمان علیہ السلام کو جو یہ عظیم سلطنت حاصل ہوئی اور جن وشیاطین [1] ہندستانی نسخہ میں یہاں بھی پہلے(تُفَادُوْھُمْ)اور بعد میں(تَفْدُوْھُمْ)والی قراء ت درج کی گئی ہے۔حالاں کہ اس کے بر عکس ہونا چاہیے۔ہندستانی نسخہ کے حاشیہ میں بھی اس کی وضاحت ہے کہ: ’’ والمذکور فی متن التفسیر’’ تفدوھم‘‘ بفتح التاء وضم الدال من ثلاثی۔۔‘‘(ص:۱۳،حاشیہ نمبر :۲۳)اس سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ ثلاثی والی قراء ت تاء کے فتحہ کے ساتھ ہے،جب کہ ہندستانی نسخہ میں یہاں تاء پر ضمہ لگایا گیا ہے جو غلط ہے۔(م)