کتاب: سعادۃ الدارین ترجمہ تعلیقات سلفیہ برتفسیر جلالین - صفحہ 27
٭ مجاہد سے مروی ہے کہ صائبین،مجوس اور یہود ونصاریٰ کے بیچ کی ایک قوم ہے جس کا کوئی دین نہیں۔(طبری:۲ /۱۴۶) ایک قول یہ ہے کہ یہ فرشتوں کی پرستش کرنے والی قوم ہے،اور ایک قول یہ ہے کہ ستاروں کی پرستار قوم ہے۔(ابن کثیر) ستاروں کی پرستش ابراہیم علیہ السلام کی قوم کلدانیوں کا مذہب تھا،یہ لوگ کواکب پرست تھے،لیکن یہودیت اور نصرانیت کے ظہور کے بعد بڑی حد تک یہ مذہب ناپید ہوگیا۔(ص) ﴿وَإِنَّا إِن شَاء اللّٰهُ لَمُہْتَدُونَ﴾ في الحدیث:’’ لو لم یستثنوا لما بُیِّنت لہم آخر الأبد۔‘‘(۳۴ /۱۱) ٭ تفسیر الطبری میں قتادہ سے مرسلا مروی ہے۔(۱۲۴۸- سورہ بقرہ:۷۰) ﴿فَذَبَحُوہَا وَمَا کَادُواْ یَفْعَلُونَ﴾ ۔۔۔۔۔وفي الحدیث:’’ لو ذبحوا أي بقرۃ کانت لأجزأتہم،ولکن شددوا علی أنفسہم فشدد اللّٰه علیہم۔‘‘(۳۴ /۱۲) ٭ تفسیر طبری میں ابن عباس،عبیدہ سلمانی،عکرمہ اور مجاہد وغیرہ سے مروی ہے۔(۱۲۳۹۔سورہ بقرۃ:۷۰) ﴿وَإِنَّ مِنْہَا لَمَا یَشَّقَّقُ۔۔۔۔﴾ فیہ إدغام التاء في الأصل في الشین(۳۵ /۱۲) ٭ اصل میں(یَتَشَقَّقُ)تھا۔ ﴿تَظَّاہَرُونَ عَلَیْْہِمْ﴾[1](۳۸ /۱۳) ٭ یہ(ظاء کی تشدید کے ساتھ)نافع،ابن کثیر،ابوعمرو اور ابن عامر کی قراء ت ہے۔ [1] ہندستانی نسخہ میں(تَظَاھَرُوْنَ)مندرج ہے،حالاں کہ تفسیر(تَظَّاھَرُوْنَ)کے اعتبار سے پہلے کی گئی ہے۔(تَظَاھَرُوْنَ)کی تفسیر بعد میں آئی ہے۔(م)