کتاب: سعادۃ الدارین ترجمہ تعلیقات سلفیہ برتفسیر جلالین - صفحہ 25
ترجمہ تعلیقات سلفیہ برتفسیر جلالین سورۃ الفاتحہ وسورۃ البقرۃ ﴿الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم﴾ ذی الرحمۃ وھی إرادۃ الخیرلأھلہ۔ ٭ رحمت کے لازمی معانی میں سے ایک معنی کو بیان کرکے رحمت کی تاویل کی گئی ہے،اللہ تعالیٰ کی صفات میں تاویل کرنے والوں کا یہ طریقہ ہے۔ائمہ سلف اس بات کی طرف گئے ہیں کہ ان صفات پر ایمان رکھا جائے اور ان کو ان کے ظاہری معنٰی پر محمول کیاجائے،اور کوئی ایسی تاویل نہ کی جائے جو ان صفات کو ان کے حقیقی معانی سے الگ کر دے،کیونکہ تاویل در حقیقت تعطیل ہے۔(ص) (یعنی صفات کی تاویل کردینا اللہ تعالیٰ کو اس کی صفات سے معطل کر دینے اور صفات کی نفی کے مترادف ہے) مقدمۃ السیوطی:(ص ۱۶) ٭ یہاں سے سورہ اسراء کے آخر تک تفسیر کا کام امام سیوطی کا ہے،در حقیقت امام محلی نے سورہ بقرہ کی تفسیرشروع کر رکھی تھی،اور کچھ آیتوں کی تفسیر کرچکے تھے اس کے بعد ان کی وفات ہوگئی۔ہمیں اس بات کا علم نہیں ہوسکا کہ امام محلی نے سورہ بقرہ کی کتنی آیتوں کی تفسیر کی تھی۔ ﴿وَمَا یُخَادِعُونَ إِلاَّ أَنفُسَہُم﴾(۱۸ /۵)[1] ٭نافع،ابن کثیر اور ابو عمرو نے(یخادعون)پڑھاہے،بقیہ قراء نے(یَخْدَعُوْنَ)پڑھا ہے۔ [1] پہلانمبرتفسیرجلالین کے دارالسلام والے نسخے کے متعلقہ صفحہ کاہے اور دوسراہندستانی نسخے کا(م)