کتاب: سعادۃ الدارین ترجمہ تعلیقات سلفیہ برتفسیر جلالین - صفحہ 130
سورۃ الماعون ﴿الَّذِیْنَ ہُمْ یُرَاؤُونَ۔۔﴾ الصلاۃ غیرھا۔ (۱۲۴۱ /۵۰۷) ٭ حاشیۃ الجمل میں ہے کہ :’’یعنی وہ لوگ تنہائی میں نماز چھوڑتے اور لوگوں کے سامنے ہونے پر پڑھتے ہیں،اور بعض نسخوں میں ’’الصلاۃ‘‘کے بدلے ’’فی الصلاۃ‘‘ہے۔[1] خاتمۃ ٭۔۔۔۔ثم تصل وسوستہم إلی القلب وتثبت فیہ بالطریق المؤدي إلی ذلک،واللّٰه أعلم۔ ہمارے نسخہ میں سورہ ناس کے بعد سورہ فاتحہ کی تفسیر موجود ہے،ہم نے اس کو کتاب کے شروع میں رکھ دیا تاکہ مصحف کی ترتیب کے مطابق ہوجائے۔ ٭ (وإلیہ المرجع والمآب،وصلی اللّٰه علی سیدنا محمد،وعلی آلہ وصحبہ،وسلم تسلیما کثیرا دائما ابدا۔وحسبنا اللّٰه ونعم الوکیل۔ولا حول ولا قوۃ إلا باللّٰه العلي العظیم۔) وإلیہ المرجع والمآب سے لے کر آخر تک قوسین کے درمیان کی یہ عبارت سورہ فاتحہ کی تفسیر کے آخر میں موجود ہے،لیکن ہم نے اس عبارت کو(کتاب کے اختتام کی)مناسبت سے یہاں رکھا ہے،اور معلوم ہو کہ حاشیۃ الجمل میں کہا ہے کہ گویا یہ عبارت امام محلی کے شاگردوں یا امام سیوطی کی لکھی ہوئی ہے جس سے امام محلی کی تفسیر کے اختتام اور اس سے فراغت اور تکمیل کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے،اس عبارت کا امام محلی کا [1] ہندستانی نسخے میں(فی الصلاۃ)ہی مندرج ہے۔(م)