کتاب: سعادۃ الدارین ترجمہ تعلیقات سلفیہ برتفسیر جلالین - صفحہ 129
سورۃ البینۃ ﴿لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ وَالْمُشْرِکِیْنَ۔۔۔﴾ أی عبدۃ الأصنام (۱۲۳۱ /۵۰۴) ٭ مشرکین نیک لوگوں کو پوجتے تھے اور ان کی حقیقی یا خیالی شکل و صورت کے بت تراشتے تھے۔(ص) سورۃ الزلزلۃ ﴿بِأَنَّ رَبَّکَ أَوْحَی لَہَا﴾ ’’تشہد علی عبد أو أمۃ بکل ما عمل علی ظہرھا‘‘ (۱۲۳۳ /۵۰۴) ٭ ترمذی(۳۳۵۳)مسند احمد(۲ /۳۷۴)[1] سورۃ القارعۃ ٭ مکیۃ،ثمان آیات(۱۲۳۵ /۵۰۵) ٭ اصل نسخہ میں اسی طرح(ثمان آیات)آیا ہے،جبکہ آیتوں کی تعداد(۱۱)ہے،آیتوں کی یہ تعداد(یعنی ۸)تو اگلی سورہ(التکاثر)میں ہے۔[2] [1] علامہ البانی نے سنن ترمذی میں اس روایت کو ’’ضعیف الاسناد‘‘ کہا ہے۔(م) [2] یہ بھی حاشیہ نگاروں کا تسامح ہے۔کیوں کہ اس سورہ کی آیتوں کی تعداد کے بارے میں علمائے عد الآی کے تین اقوال پائے جاتے ہیں۔(۱)۸؍آیت(۲)۱۰؍ آیت(۳)۱۱؍ آیت۔ملاحظہ ہو ابن الجوزی علیہ الرحمۃ کا فرمان: ’’سورۃ القارعۃ : ثمان آیات فی عد البصری وعطاء والشامیِ دون اھل حمص،وعشر آیات فی عد المکی والمدنیین واھل حمص،واحدی عشرۃ آیۃ فی عد الکوفی۔۔۔‘‘(فنون الافنان۔۔ص: ۳۲۵) امام سیوطی کا مختصر اور جامع بیان یوں ہے: ’’ القارعۃ: ثمان،وقیل: عشرِ وقیل : احدی عشرۃ‘‘(الاتقان :۱؍۹۱) عدالآی کے سلسلے میں کچھ ضروری باتیں کتاب کے مقدمہ میں بھی ذکر کی جا چکی ہیں۔ان کی طرف مراجعت مفید ہوگی۔(م)