کتاب: سعادۃ الدارین ترجمہ تعلیقات سلفیہ برتفسیر جلالین - صفحہ 126
’’الأعلی ‘‘صفۃ لـ’’ربک‘‘(۱۲۱۴ /۴۹۷) ٭(صفت بھی ہے)اور اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ایک اسم بھی ہے جو اس کے ’’علو‘‘ پر دلالت کرتا ہے،پس اللہ تعالیٰ قدرومنزلت کے اعتبار سے بھی بلند ہے اور قہر و غلبہ کے ذریعہ بھی،او روہ اپنی ذات کے ساتھ بلند ہے،چنانچہ وہ ہرچیز سے اوپر ہے،اور یہی سبب ہے اس کے تسبیح کے مستحق ہونے کا،اور تسبیح نقائص سے پاکی گرداننے ہی کا نام ہے۔(ص) سورۃ الغاشیۃ ﴿وَإِلَی الْأَرْضِ کَیْْفَ سُطِحَتْ﴾ وقولہ ’’سطحت‘‘ ظاہر فی أن الأرض سطح۔۔۔۔اھل الھیئۃ (۱۲۱۷ /۴۹۸) ٭ زمین کا بظاہر پھیلا ہو ااور ہموار ہونا اس کے گول ہونے کے منافی نہیں ہے،بہت سے قدیم علمائے شریعت بھی زمین کے گول ہونے کے قائل تھے۔(ص) سورۃ الفجر ﴿إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۔۔۔﴾ کان طول الطویل منہم اربعمائۃ ذراع (۱۲۱۸ /۴۹۸) ٭ یہ مبالغہ اور غلو ہے،اس کا کوئی ثبوت نہیں۔(ص) ﴿وَجَاء رَبُّکَ۔۔۔۔﴾ أی أمرہ (۱۲۱۹ /۴۹۹) ٭ یہ تأویل(یعنی جاء ربک کو بمعنی جاء أمرربک کہنا)سلف کے طریقے کے مخالف ہے،سلف کاعقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے صفت ’’مجیٔ‘‘(آنا)کا اثبات کیا جائے،اور یہ صفت اس کے لیے اسی طور پر ثابت ہوگی جو اس کے لیے مناسب ہو،کسی طرح