کتاب: سعادۃ الدارین ترجمہ تعلیقات سلفیہ برتفسیر جلالین - صفحہ 124
سورۃ التساؤل ﴿سورۃ التساؤل﴾ (۱۱۹۲ /۴۸۶) ٭ اس کو سورۃ النبأ بھی کہتے ہیں۔ سورۃ النازعات ﴿مَتَاعاً لَّکُمْ وَلِأَنْعَامِکُمْ﴾ ۔۔ای فعل ذلک منفعۃ(۱۱۹۸ /۴۸۹) ٭ حاشیۃ الجمل میں کہا گیا ہے ایک نسخہ میں(منفعۃکی جگہ)’’متعۃ‘‘ ہے۔[1] سورۃ عبس ﴿أَن جَاء ہُ الْأَعْمَی۔۔۔۔﴾ ۔۔من أشراف قریش الذي۔۔ (۱۱۹۹ /۴۹۰) ٭ ’’الذي‘‘أشراف قریش کی صفت ہے۔قاعدہ کے لحاظ سے ’’الذین‘‘کہنا چاہیے تھا گویا یہاں الذي اس قلیل استعمال کے اعتبار سے وارد ہوا ہے جس میں ’’الذي‘‘کو جمع میں استعمال کیا جاتا ہے جس طرح(وخضتم کالذي خاضوا)میں آیا ہے۔اھ من الحاشیۃ سورۃ التکویر ﴿بِأَیِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ﴾ وقرئت بکسر التاء (۱۲۰۲ /۴۹۱) ٭ یہ شاذ قراء ت ہے۔ [1] ہندستانی نسخہ میں(متعۃ)ہی آیا ہے۔(م)