کتاب: سعادۃ الدارین ترجمہ تعلیقات سلفیہ برتفسیر جلالین - صفحہ 122
بأن تشرکوا۔۔۔وبیعھم أشرکوا۔(۱۱۷۰ /۴۷۷) ٭ دعا کی دو قسمیں ہیں(۱)دعاء المسالۃ جیسے استغاثہ(فریاد کرنا)استعاذہ(پناہ چاہنا)مصیبت زدہ کا اپنی مصیبت دور کرنے کے لیے پکارنا۔(۲)دعاء العبادۃ جیسے نذر،زکاۃ،نیکی کے کام،نماز،روزہ۔اور آیت میں جو ممانعت وارد ہے اس میں دعا کی دونوں قسمیں داخل ہیں(ص) ﴿وَأَنَّہُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوہُ۔۔۔۔﴾ یعبدہ ببطن نخل (۱۱۷۱ /۴۷۷) ٭ کتاب میں اسی طرح آیا ہے لیکن پہلے یہ بات گزر چکی ہے کہ یہ بطن نخلہ ہے(بطن نخل نہیں) ﴿عَالِمُ الْغَیْبِ۔۔۔۔﴾ ما غاب بہ عن العباد (۱۱۷۱ /۴۷۷) ٭ ’’ما غاب بہ‘‘کے بارے میں حاشیۃ الجمل میں آیا ہے کہ اگر ’’بہ‘‘ حذف کردیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ سورۃ المدثر سورۃ المدثر مکیۃ،خمس وخمسون آیۃ۔۔۔ (۱۱۷۵ /۴۷۹) ٭ درست یہ ہے کہ ’’ست وخمسون آیۃ‘‘ کہتے۔[1] [1] بعض دوسری سورتوں کی طرح اس سورہ کی آیتوں کے شمار میں بھی علمائے عد الآی کا اختلاف ہے۔بعض کے نزدیک اس کی آیتوں کی تعداد(۵۵)ہے اور بعض کے نزدیک(۵۶)۔چنانچہ علامہ ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ’’فنون الافنان‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’سورۃ المدثر: خمس وخمسون آیۃ فی عد الشامی- سوی اھل حمص - وعد المکی والمدنی الاخیر،وست فی عد الکوفی والمدنی الاول والبصری وعطاء واھل حمص۔‘‘(ملاحظہ ہو فنون الافنان فی عیون علوم القرآن،بتحقیق ڈاکٹر حسن ضیاء الدین عتر،ص: ۳۱۸) اسی طرح امام سیوطی نے بھی الاتقان(۱؍۹۱)میں اس اختلاف کا ذکر کرتے ہوئے دونوں قول کی نشاندہی فرمائی ہے۔لہذا مفسر علیہ الرحمۃ کے قول ’’ خمس وخمسون‘‘ پر حاشیہ نگاروں کا استدراک درست نہیں ہے۔واللّٰه اعلم۔(م)