کتاب: سعادۃ الدارین ترجمہ تعلیقات سلفیہ برتفسیر جلالین - صفحہ 118
٭ درست بات یہ ہے کہ یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر شہد کو حرام ٹھہرایا تھا،امام بخاری نے اپنی کتاب میں اس واقعہ کی روایت کی ہے،چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت جحش کے ساتھ شہد پیتے تھے اور ان کے پاس ٹھہرتے تھے،تو میں نے اور حفصہ نے طے کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس اللہ کے رسول آئیں وہ آپ سے کہے کیاآپ نے مغافیر(ایک قسم کا پھول جس میں بساند ہوتی ہے)کھایا ہے؟مجھے آپ سے مغافیر کی بو آرہی ہے،آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ایسا نہیں بلکہ میں زینب بنت جحش کے ساتھ شہد پیتا تھا،اب آئندہ میں ہرگز نہ پیوں گا،اس پر میں قسم کھاتا ہوں۔کسی سے اس کے بارے میں مت بتانا۔(حدیث نمبر:۴۹۱۱)اور ایک دوسرے طریق میں(حدیث نمبر:۵۲۶۷)اس بات کی صراحت ہے کہ یہ سورہ﴿وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِیُّ إِلَی بَعْضِ أَزْوَاجِہِ حَدِیْثاً﴾تک اسی واقعہ میں نازل ہوئی(ص) سورۃ الملک ﴿تَبَارَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ۔۔۔۔۔﴾ فی تصرفہ (۱۱۴۸ /۴۶۶) ٭ [بیدہ] کی تفسیر[فی تصرفہ] کے ذریعہ کرکے اللہ تعالیٰ کے لیے’’ید‘‘کی صفت کا اقرارکرنے سے فرار اختیار کیا گیا ہے۔تصرف تو صفت ید کا لازمی معنی ہے،تصرف بعینہ یدنہیں،سلف کے یہاں مقررہ قاعدہ یہ ہے کہ اللہ کے اسماء،اس کی صفات اور صفات کے احکام سب پر ایمان رکھا جائے(ص) ﴿أَأَمِنتُم مَّن فِیْ السَّمَاء﴾ سلطانہ وقدرتہ (۱۱۵۰ /۴۶۷) ٭ یہ تأویل باطل ہے اورصفت علوکو معطل کر دینا ہے،اور اللہ کے رسولوں کی لائی