کتاب: سعادۃ الدارین ترجمہ تعلیقات سلفیہ برتفسیر جلالین - صفحہ 116
سورۃ الصف ﴿إِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ۔۔۔۔۔۔﴾ ینصر ویکرم (۱۱۲۷ /۴۵۹) ٭ نصر اور اکرام کے ذریعہ محبت کی تفسیر لازمی معنی کے اعتبار سے ہے(حقیقی معنی کے ساتھ نہیں) اہل سنت والجماعت اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کی صفت ثابت کرتے ہیں،اس صفت کا اطلاق اس کے اوپراسی طور پر ہوگا جو اس کے شایان شان ہو،اس کو کسی سے تشبیہ نہیں دی جائے گی،نہ اس کواس صفت سے معطل رکھا جائے گااور نہ اس کی تاویل کی جائے گی،پہلے بھی اس پر تنبیہ گزر چکی ہے،(ص) ﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آَمَنُوا کُونوا أَنصَارَ اللّٰهِ کَمَا قَالَ۔۔۔۔۔﴾ الدال علیہ قال (۱۱۲۹ /۴۵۹) ٭ ہمارے نسخہ میں(وقال)واوکے ساتھ ہے،باقی نسخوں میں(قال)بغیر واو کے ہے،اسی کو ہم نے یہاں درج کیا ہے۔[1] سورۃالجمعۃ ﴿وَاللّٰهُ خَیْْرُ الرَّازِقِیْنَ۔۔۔﴾ یقال :کل انسان۔۔۔۔من رزق اللّٰه تعالیٰ۔ (۱۱۳۲ /۴۶۰) ٭ یعنی انسان بھی رزق دیتا ہے،اور یہ مجازی اعتبار سے ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے: [1] زیر نظر محقق نسخے میں عبارت اس طرح ہے:﴿کَمَا قَال﴾الخ،المعنی : کما کان الحواریون کذلک- الدال علیہ : ’’قال‘‘ -﴿عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیِّیْنَ۔۔﴾اس طرح اس نسخے میں دو مرتبہ(قال)کا لفظ آیا گیاہے۔ہمارے ہندستانی نسخے میں عبارت یوں ہے:﴿کَمَا﴾کان الحواریون کذلک الدال علیہ﴿قَالعِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ۔۔۔﴾(م)