کتاب: سعادۃ الدارین ترجمہ تعلیقات سلفیہ برتفسیر جلالین - صفحہ 108
﴿فَاعْلَمْ أَنَّہُ لَا إِلَہَ إِلَّا اللّٰهُ۔۔۔۔﴾ ’’إني لأستغفر اللّٰه في الیوم مائۃ مرۃ‘‘(۱۰۳۷ /۴۲۱) ٭ مسلم(۲۷۰۲) ﴿إِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوا عَلَی أَدْبَارِہِم۔۔۔۔وَأَمْلَی لَہُمْ﴾ بضم أولہ۔۔۔۔۔ (۱۰۳۹ /۴۲۲) ٭ یعنی(پہلے حرف کے ضمہ)اور تیسرے حرف کے کسرہ اور یاء کے فتحہ کے ساتھ۔(حاشیۃ الجمل) سورۃ الفتح ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ۔۔۔۔﴾ قضینا بفتح مکۃ وغیرہا في المستقبل (۱۰۴۲ /۴۲۳) ٭ ’’المستقبل‘‘ لفظ فتح کی صفت ہے،جیسا کہ حاشیۃ الجمل میں ہے۔[1] ﴿یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ أَیْدِیْہِمْ﴾ أي ہو تعالی مطلع علی مبایعتہم۔۔۔ (۱۰۴۴ /۴۲۳) ٭ اس تأویل سے اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت صفۃید کا ابطال لازم آتا ہے،درست بات یہ ہے کہ یہ آیت اس بات کا فائدہ دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے ’’ید‘‘ ثابت ہے،ٹھیک اسی طریقہ پر جیسا کہ اس کے شایان شان ہے،کسی طرح کی مشابہت کے بغیر۔اور یہ کہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے بیعت کرتا ہے۔جیسا کہ ابن کثیر وغیرہ نے فرمایا ہے۔(ص) [1] ہندستانی نسخے میں(فی المستقبل)کے بجائے صرف(المستقبل)ہے،اسی اعتبار سے اس توجیہ کی ضرورت پیش آئی۔اور زیر نظر نسخے میں(فی المستقبل)مندرج ہے،لہذا یہاں اس حاشیہ کی کوئی ضرورت نہیں تھٰی،البتہ اس حاشیہ کا فائدہ ہندستانی نسخے والوں کو پہنچے گا۔(م)