کتاب: سعادۃ الدارین ترجمہ تعلیقات سلفیہ برتفسیر جلالین - صفحہ 106
الکرسی (۱۰۱۰ /۴۱۰) ٭ ملاحظہ ہو سورہ توبہ کی آیت نمبر(۱۲۹)کی تفسیر اور حاشیہ۔ سورۃ الدخان ﴿إِنَّا أَنزَلْنَاہُ فِیْ لَیْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ۔۔۔۔﴾ أو فی لیلۃ النصف من شعبان۔ (۱۰۱۲ /۴۱۰) ٭ یہ صحیح نہیں ہے،کیوں کہ قرآن رمضان میں اور شب قدر میں نازل ہوا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے﴿شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ أُنزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنُ﴾اور دوسری جگہ ہے:﴿إِنَّا أَنزَلْنَاہُ فِیْ لَیْْلَۃِ القَدْر﴾(ص)٭٭٭٭٭٭ سورۃ الأحقاف ﴿أَمْ لَہُمْ شِرْکٌ فِیْ السَّمَاوَاتِ۔۔۔﴾ مشارک (۱۰۲۵ /۴۱۶) ٭ یہاں ایسے ہی لفظ ’’مشارک‘‘سے تفسیر کیا ہے،اور حاشیۃ الجمل میں ہے کہ اگر شرک کی تشریح ’’شرکت‘‘سے کرتے تو زیا دہ وضاحت ہو جاتی،اور تفسیر الدر المصون میں ہے کہ شرک بمعنی مشارکت ہے۔[1] ﴿وَیَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ کَفَرُوا عَلَی النَّارِ أَذْہَبْتُمْ۔۔۔۔﴾ بھمزۃ،وبھمزتین،وبھمزۃ ومدۃ۔ (۱۰۲۹ /۴۱۷) ٭(بھمزۃ ومدۃ)کہنے کے بجائے اس طرح کہنا مناسب تھا(وبھمزتین محققتین ومدۃ وھی ثالثھا)صاوی۔ ﴿وَیَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ کَفَرُوا۔۔۔۔۔کُنتُمْ تَفْسُقُونَ﴾ بہ،ویعذبون بھا۔ (۱۰۲۹ /۴۱۸) [1] ہندستانی نسخے میں یہاں شرک کی تفسیر میں ’’مشارکۃ ‘‘ کا لفظ ہی درج ہے۔(م)