کتاب: سعادۃ الدارین ترجمہ تعلیقات سلفیہ برتفسیر جلالین - صفحہ 105
﴿وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ قَرِیْبٌ﴾ ۔۔۔وما بعدہ سد مسد المفعولین؟ (۹۹۰ /۴۰۲) ٭ یہاں اصل نسخے میں واو کی جگہ پر ’’أو ‘‘ ہے جیسا کہ حاشیۃ الجمل میں مذکور ہے،لیکن ’’أو‘‘کو واو کے معنی میں بتایا گیا ہے۔[1] ﴿فَمَا أُوتِیْتُم مِّن شَیْْء۔۔۔وَعَلَی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُونَ﴾ ویعطف علیھم(۹۹۴ /۴۰۴) ٭ حاشیۃ الجمل میں ایسے ہی ہے(علیھم)اور حاشیۃ الصاوی میں(ویعطف علیہ)ہے أی علی قولہ(للذین آمنوا)[2] ﴿مَا کُنتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتَابُ وَلَا الْإِیْمَانُ۔۔۔۔﴾ أو ما بعدہ سد مسدالمفعولین ٭ حاشیۃ الجمل میں ہے کہ یہاں ’’أو‘‘واو کے معنی میں ہے۔ سورۃ الزخرف ﴿إِنَّا جَعَلْنَاہُ قُرْآناً عَرَبِیّاً﴾ أوجدنا الکتاب (۹۹۹ /۴۰۵) ٭ اس تفسیر سے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ قرآن کو مخلوق مانا جا رہا ہے،جو باطل اور غیر صحیح ہے،صحیح یہ ہے کہ اس ’’جعل‘‘ کو ’’انزال‘‘کے معنی میں لیا جائے یعنی﴿إِنَّا أَنْزَلْنَاہُ﴾اور یہ ویسے ہی ہے جیسے سورہ یوسف میں کہا گیا ہے:﴿إِنَّا أَنْزَلْنَاہُ قُرْآناً عَرَبِیّاً لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ﴾(ص) ﴿سُبْحَانَ رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ۔۔۔﴾ [1] ہندستانی نسخے میں یہاں ’’أو ‘‘ ہے۔(م) [2] ہندستانی نسخے میں(ویعطف علیہ)ہے۔(م)