کتاب: سعادۃ الدارین ترجمہ تعلیقات سلفیہ برتفسیر جلالین - صفحہ 103
لأنہم نُطَفاً أموات۔۔۔۔ (۹۵۶ /۳۹۱) ٭ ایسے ہی بعض نسخوں میں(نطفا)حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے،اور درست عبارت اس طرح ہوگی :(لأنہم کانوا أو خلقوا نطفا۔۔۔)اور بعض نسخوں میں اس طرح ہے(لأنہم کانوا نطفا أمواتا)(حاشیۃ الجمل)[1] ﴿رَفِیْعُ الدَّرَجَاتِ ذُو الْعَرْشِ۔۔۔﴾ خالقہ (۹۵۷ /۳۹۲) ٭ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا خالق ہے،یہاں(ذو العرش)میں اضافت اس بات کا فائدہ دے رہی ہے کہ عرش کو کوئی خصوصیت حاصل ہے جو عالَم کو نہیں حاصل ہے،لہٰذا یہاں اس لفظ سے یہ مراد لیا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ عرش والا ہے اس عر ش پر بذاتہ حقیقتاً مستوی ہے جس طرح کے اس کی شان کے لائق ہے۔(ص) ﴿وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُونِیْ أَقْتُلْ مُوسَی۔۔۔﴾ ۔۔من عبادتکم إیاي فتتبعونہ۔۔ (۹۶۰ /۳۹۲) ٭ حاشیۃ الجمل میں ہے کہ یہاں بہتر یہ ہے کہ(فتتبعوہ)رہے جیسا کہ حاشیۃ الصاوی میں ہے کہ یہاں نون کو حذف کرنا مناسب ہے۔ ﴿وَلَقَدْ جَاء کُمْ یُوسُفُ مِن قَبْلُ۔۔۔۔﴾ وھو یوسف بن یعقوب-فی قول-عمّر إلی زمن موسیٰ (۹۶۲ /۳۹۳) ٭ حضرت یوسف حضرت موسیٰ علیہما السلام سے کئی صدی پہلے وفات پا چکے تھے۔(ص) ﴿إِذِ الْأَغْلَالُ فِیْ أَعْنَاقِہِمْ وَالسَّلَاسِلُ یُسْحَبُونَ﴾ أي:یجزون بہا (۹۷۱ /۳۹۵) ٭ بعض نسخوں میں(یُجَرُّون بہا)ہے،دونوں تفسیروں میں کوئی تضاد نہیں [1] ہندستانی نسخہ میں اسی طرح ہے:(لأنہم کانوا نطفا أمواتا)(م)