کتاب: رزق اور اس کی دعائیں - صفحہ 86
ضرور حاصل کرتی ہے: i: دعا کا فوری نتیجہ میسر آنا ii: دعا کی وجہ سے آنے والی مصیبت کا دُور ہونا iii: دعا کے نتیجے کا آخرت میں محفوظ کیا جانا[1] اگر رزق کے لیے دعائیں رکاوٹوں سے خالی ہوں، اُن کی قبولیت کے اسباب موجود ہوں، مگر پھر بھی اُن کا فوری نتیجہ نظر نہ آئے، تو دعا کرنے والا مایوس اور بددل نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں، کہ اُس کی اُن دعاؤں کی وجہ سے وہ آنے والی کتنی مصیبتوں سے محفوظ کیا جا رہا ہے اور اس کے لیے اُن دعاؤں کی بدولت آخرت میں کتنے ذخائر او رخزانے جمع کیے جا رہے ہیں۔ وہ دلجمعی، توجہ، دھیان، اہتمام اور شوق و ذوق سے دعائیں جاری رکھے، اس کا سودا خسارے کا نہیں، بلکہ توفیقِ الٰہی سے سراسر خیر و سعادت اور برکت و رحمت کا ہے۔ ربِّ کریم ہمیں زیادہ سے زیادہ دعائیں کرنے اور مذکورہ بالا تینوں ثمرات بہت زیادہ حاصل کرنے والے خوش نصیب لوگوں میں شامل فرمائیں۔ إِنَّہٗ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ۔ [1] ملاحظہ ہو: ’’اذکارِ نافعہ‘‘ ص ۱۸۲-۱۸۳۔