کتاب: رزق اور اس کی دعائیں - صفحہ 80
جب وہ میرا ذکر کرتا ہے، تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔‘‘] (أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِيْ) سے مراد یہ ہے، کہ میں بندے کے گمان کے مطابق اس کے ساتھ معاملہ کرتا ہوں اور میرے بارے میں اُس کی توقع کے موافق، اُس کے ساتھ سلوک کرتا ہوں۔[1] رزق کے لیے دعا کرنے والا اس یقین کے ساتھ دعا کرے، کہ الرزّاق ذوالقوۃ المتین مجھے ضرور رزق عطا فرمائیں گے۔ ii: خوف وطمع سے دعا کرنا: iii: اللہ تعالٰی کے احکامات کو بجا لانا: رب کریم نے فرمایا: {وَادْعُوْہُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا إِنَّ رَحْمَتَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ}[2] [اور اُنہیں خوف اور طمع سے پکارو۔ بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت احسان کرنے والوں کے بہت نزدیک ہے]۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیتِ کریمہ میں دو باتیں فرمائیں: پہلی بات یہ ہے، کہ انہوں نے حکم دیا، کہ دعا ڈرتے ہوئے طمع سے کرو۔ یعنی اپنے گناہوں کے پیشِ نظر اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور عذاب سے ڈرتے ہوئے ، کہ وہ تمہارے گناہوں کے سبب ناراض ہو کر دعا مسترد نہ فرما دیں۔ اسی حکم میں ساتھ ہی یہ بھی فرمایا، کہ طمع کرتے ہوئے، یعنی امید رکھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ضرور میری داد رسی فرمائیں۔ دوسری بات یہ ہے، کہ انہوں نے ایک عظیم الشان بشارت دی ہے، کہ: [1] ملاحظہ ہو: شرح الطیبي ۵/۱۷۲۳۔ [2] سورۃ الأعراف/ جزء من الآیۃ ۵۶۔