کتاب: رزق اور اس کی دعائیں - صفحہ 79
۳۔ قبولیتِ دعا کے اسباب کا اہتمام کرنا: ربِّ کریم دعاؤں کے قبول کرنے میں کسی سبب کے محتاج نہیں۔ وہ اسباب کی عدم موجودگی میں بھی دعاؤں کو قبول اور اُن کی موجودگی میں ردّ فرما سکتے ہیں۔ وہ [یَفْعَلُ مَا یَشَآئُ] [وہ جو چاہیں، کرتے ہیں] کی صفت والے ہیں، لیکن انہوں نے اپنی حکمت سے دعاؤں کی قبولیت کو کچھ اسباب سے وابستہ فرما دیا ہے۔ اُنہی میں سے سات درجِ ذیل ہیں: i: قبولیت کے یقین کے ساتھ دعا کرنا: ا: امام ترمذی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، (کہ) انہوں نے بیان کیا: [’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اُدْعُوْا اللّٰہَ وَ أَنْتُمْ مُّوْقِنُوْنَ بِالْإِجَابَۃِ۔‘‘[1] [’’اللہ تعالیٰ سے قبولیت کے یقین کے ساتھ دعا کرو‘‘]۔ ب: امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، (کہ) انہوں نے بیان کیا: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ عزوجل فرماتے ہیں: ’’أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِيْ بِيْ، وَ أَنَا مَعَہٗ حِیْنَ یَذْکُرُنِيْ۔‘‘[2] [’’میں اپنے بندے کے میرے بارے میں گمان کے مطابق ہوں اور [1] جامع الترمذي، أبواب الدعوات، باب، جزء من رقم الحدیث ۳۷۰۹، ۹/۳۱۶۔ شیخ البانی نے اسے [حسن] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن الترمذي ۳/۱۶۴)۔ [2] متفق علیہ: صحیح البخاري، کتاب التوحید، باب قول اللّٰه تعالیٰ: (وَ یُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ)، …، جزء من رقم الحدیث ۷۴۰۵، ۱۳/۳۸۴؛ و صحیح مسلم، کتاب الذکر و الدعآء و التوبۃ و الاستغفار، باب الحث علی ذکر اللّٰہ تعالٰی، جزء من رقم الحدیث ۲-(۲۷۶۵) ۴/۲۰۶۱۔ الفاظِ حدیث صحیح مسلم کے ہیں۔