کتاب: رزق اور اس کی دعائیں - صفحہ 78
رزق طلب کرنے والا اس بات کا پابند ہے، کہ تاحدِّ استطاعت معنوی و مادی اسباب اختیار کرنے کی سر توڑ کوشش کرے اور معنوی و مادی رکاوٹوں[1] سے خود کو محفوظ رکھنے کی خاطر مقدور بھر جدوجہد کرے۔ رزق کے معنوی اسباب میں ایک بہت ہی موثر اور زور دار سبب دعا کرنا ہے، لیکن صرف ایک سبب پر اکتفا کرتے ہوئے باقی اسباب کو نظر انداز کرنا درست نہیں۔ ۲: دعاؤں کی قبولیت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دُور کرنا: طلبِ رزق کے لیے قرآن و سنت سے ثابت شدہ دعائیں یقینا مؤثر، مفید اور نفع مند ہیں، لیکن ہماری طرف سے پیدا کردہ رکاوٹیں ہمیں اُن کی خیر و برکات سے محروم کر دیتی ہیں۔ ایسی رکاوٹوں میں سے چھ درج ذیل ہیں: i: بے توجہگی اور غفلت سے دعا مانگنا ii: حرام کمائی iii: گناہ کی دعا کرنا iv: قطع رحمی کی دعا کرنا v: عجلت پسندی vi: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑنا[2] ربِّ کریم ہمیں خود میں موجود رکاوٹوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نجات دیں اور آئندہ پیدا ہونے والی رکاوٹوں سے محفوظ فرما دیں۔ إِنَّہٗ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ۔ [1] معنوی رکاوٹوں میں سے یتیموں کی تکریم نہ کرنا، مسکینوں کے کھانے کی ایک دوسرے کو ترغیب نہ دینا، مال وراثت ہڑپ کر جانا، مال سے شدید محبت کرنا وغیرہ ہیں۔ (ملاحظہ ہو: سورۃ الفجر / الآیات ۱۷-۲۰)۔ مولائے کریم اس حوالے سے زیرِ تفکیر کتاب کو پیش کرنے کی جلد توفیق عطا فرمائیں۔ إِنَّہٗ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ۔ مادی رکاوٹوں میں سستی، کاہلی، لا پروائی وغیرہ شامل ہیں۔ [2] تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ’’اذکار نافعہ‘‘ صفحات ۱۸۰-۱۸۲۔