کتاب: رزق اور اس کی دعائیں - صفحہ 73
[اَللّٰہُمَّ ارْزُقْہُ مَالًا وَّ وَلَدًا، وَ بَارِکْ لَہٗ فِیْہِ] [1] [’’اے اللہ! اُسے مال اور اولاد عطا فرمائیے اور اُس کے لیے اُس (یعنی عطا کردہ مال و اولاد) میں برکت فرمائیے‘‘]۔ تنبیہ: دو کے لیے دعا کرتے ہوئے یوں کہا جائے: ( [اَللّٰہُمَّ ارْزُقْہُمَا مَالًا وَّ وَلَدًا، وَ بَارِکْ لَہُمَا فِیْہِ] [اے اللہ! ان دونوں کو مال اور اولاد دیجیے اور ان دونوں کے لیے اس میں برکت فرمائیے]۔ دو سے زیادہ کے لیے یوں دعا کرے: ( [اَللّٰہُمَّ ارْزُقْہُمْ مَالًا وَّ وَلَدًا، وَ بَارِکْ لَہُمْ فِیْہِ] [اے اللہ! انہیں مال اور اولاد دیجیے اور اُن کے لیے اس میں برکت فرمائیے]۔ اپنے لیے یوں دعا کرے: ( [اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنِيْ مَالًا وَّ وَلَدًا، وَ بَارِکْ لِيْ فِیْہِ] [اے اللہ! مجھے مال اور اولاد دیجیے اور میرے لیے اس میں برکت فرمائیے]۔ اپنے ساتھ کسی اور کو شامل کرنے کی صورت میں حسبِ ذیل الفاظ کے ساتھ دعا کرے: ( [اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنَا مَالًا وَّ وَلَدًا، وَ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ] [1] ملاحظہ ہو: صحیح البخاري، کتاب الصوم، باب من زار قوما فلم یفطر عندہم، جزء من رقم الحدیث ۱۹۸۲، ۴/۲۲۸؛ و المسند، جزء من رقم الحدیث ۱۲۰۵۳، ۱۹/۱۰۹؛ و مسند أبي یعلٰی الموصلی، جزء من رقم الحدیث ۱۱۲۳- (۳۸۷۸)، ۶/۴۷۰-۴۷۱۔ دعا کے الفاظ مسند احمد اور مسند الموصلی کے ہیں۔ صحیح البخاري میں دعا [فِیْہِ] کے بغیر ہے۔ البتہ حافظ ابن حجر نے لکھا ہے، کہ صحیح بخاری کے الکُشْمِیْہَنِيْ کے حوالے سے نقل کردہ نسخہ میں [فِیْہِ] ہے۔ (ملاحظہ ہو: فتح الباري ۴/۲۲۹)۔