کتاب: رزق اور اس کی دعائیں - صفحہ 71
نے (اُن کے لیے دُعا کرتے ہوئے) کہا: ’’اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَہٗ فِیْ بَیْعِہٖ… أَوْ قَالَ … فِي صَفْقَتِہٖ۔‘‘ [1] [’’اے اللہ! اُس کے لیے اُس کی تجارت… یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا… اُس کے سودے میں برکت عطا فرمایئے ‘‘]۔ تنبیہ: اپنے لیے یہ دُعا کرنے والا شخص حسب ِذیل الفاظ کہے: ( [اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لِيْ فِيْ بَیْعِيْ۔] [اے اللہ ! میرے لیے میری تجارت میں برکت عطا فرمایئے]۔ اور اگر چاہے، تو کہے: ( [اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لِيْ فِيْ صَفْقَتِيْ۔] [اے اللہ! میرے لیے میرے سودے میں برکت عطا فرمایئے]۔ اپنے ساتھ کسی دوسرے شخص یا اشخاص کو دعا میں شامل کرنے کی صورت میں کہے: ( [اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لِنَا فِيْ بَیْعِنَا۔] [اے اللہ! ہمارے لیے ہماری تجارت میں برکت عطا فرمایئے]۔ اور اگر چاہے، تو کہے: ( [اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لِنَا فِيْ صَفْقَتِنَا۔] [اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے سودے میں برکت فرمائیے]۔ وَاللّٰہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ۔ [1] مسند أبي یعلٰی، رقم الحدیث ۱۲۔ (۱۴۶۷)، ۳؍ ۴۷؛ ومجمع الزوائد ، کتاب المناقب ، باب في عبداللّٰہ بن جعفر رضی اللّٰه عنہما وغیرہ، ۹؍۲۸۶۔ الفاظِ دُعا مجمع الزوائد کے ہیں۔ حافظ ہیثمی نے لکھا ہے: ’’ اسے (امام) ابو یعلٰی اور (امام) طبرانی نے روایت کیا ہے اور اُن دونوں کے راویان ثقہ ہیں۔‘‘ (المرجع السابق ۹؍۲۸۶)۔