کتاب: رزق اور اس کی دعائیں - صفحہ 70
[ ’’اے اللہ! بادشاہی کے مالک، آپ جِسے چاہیں، بادشاہت عطا فرماتے ہیں اور جس سے چاہیں، چھین لیتے ہیں اور آپ جِسے چاہیں، عزت سے نوازتے ہیں اور جِسے چاہیں ذلیل کرتے ہیں۔ تمام خیر آپ ہی کے ہاتھ میں ہے ۔ بلاشبہ آپ ہر چیز پر کمال قدرت رکھتے ہیں۔ [اے] دنیا و آخرت کے نہایت مہربان، انتہائی رحم فرمانے والے ! آپ جِسے چاہیں، وہ دونوں عطا فرماتے ہیں اور جس سے چاہیں، ان دونوں میں سے روک لیتے ہیں۔ مجھ پر ایسی رحمت فرمائیے ،کہ اُس کے ساتھ آپ مجھے اپنے سوا ہر کسی کی رحمت سے بے نیاز فرما دیں‘‘]۔ حافظ منذری نے اس حدیث کو درجِ ذیل عنوان کے تحت ذکر کیا ہے: [اَلتَّرْغِیْبُ فِيْ کَلِمَاتٍ یَّقُوْلُہُنَّ الْمَدْیُوْنُ، وَ الْمَہْمُوْمُ، وَالْمَکْرُوْبُ، وَالْمَأْسُوْرُ]۔ [1] [اُن کلمات (کے پڑھنے) کی ترغیب جنہیں مقروض، پریشان حال، شدید مصیبت زدہ اور قیدی کہے]۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسروں کے لیے کی ہوئی دعائیں: ۲۲-۱: امام ابو یعلیٰ اور امام طبرانی نے حضرت عمرو بن حُرَیث رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ : ’’بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرے اور وہ بچوں کی طرز پر (چیزیں) فروخت کر رہے[2] تھے، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم [1] الترغیب والترہیب ۲؍ ۶۱۳۔ [2] (بچوں کی طرز پر): شاید اس سے مراد یہ ہو، کہ جس طرح بچے آپس میں کھیل کود کے طور پر خرید و فروخت کرتے ہیں، وہ بھی ایسے ہی کر رہے تھے، یا مراد یہ ہو، کہ وہ معمولی چیزیں یا بچوں کی چیزیں فروخت کر رہے تھے۔ وَ اللّٰہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ۔ مسند أبي یعلٰی میں ہے: (مَعَ الْغِلْمَانِ) [لڑکوں کے ساتھ]۔