کتاب: رزق اور اس کی دعائیں - صفحہ 68
آپ اوّل ہیں، سو آپ سے پہلے کوئی چیز نہیں، آپ آخر ہیں، سو آپ کے بعد کوئی چیز نہیں، آپ ظاہر ہیں، سو کوئی چیز آپ کے اوپر نہیں اور آپ باطن ہیں، سو کوئی چیز آپ سے زیادہ پوشیدہ نہیں۔ ہماری طرف سے قرض ادا فرما دیجیے اور ہمیں فقر سے مستغنی فرما دیجیے‘‘]۔ ۲۰-۵: امام ترمذی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ،کہ ایک مکاتَب[1] اُن کے پاس آیا اور عرض کیا: [’’میں حصولِ آزادی کے لیے طے شدہ رقم ادا کرنے سے عاجز آگیا ہوں ،اس لیے آپ میرے ساتھ تعاون کیجیے۔‘‘ انہوں نے فرمایا: ’’کیا میں تمہیں وہ کلمات نہ سکھا دوں ،جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھلائے تھے؟ اگر تمہارے ذمہ جبل صِیر[2] کے برابر بھی قرض ہو ، تو اللہ تعالیٰ [ان کلمات کی وجہ سے] تمہاری طرف سے اد اکر دیں گے۔‘‘ (پھر) فرمایا:’’تم کہو: [’’اَللّٰھُمَّ اکْفِنِيْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ، وَأَغْنِنِيْ بِفَضْلِکَ عََنْ سِوَاکَ‘‘۔][3] [ترجمہ: ’’اے اللہ! اپنے حلال کے ساتھ اپنی حرام کردہ چیزوں سے میری کفایت فرما دیجئے اور اپنے سوا مجھے ہر شخص سے بے نیاز فرما دیجیے۔‘‘] [1] (مکاتِب): کچھ مال یا خدمت کے بدلے میں اپنے مالک سے آزادی حاصل کرنے کا معاہدہ کرنے والا غلام۔ (ملاحظہ ہو: تحفۃ الأحوذي ۱۰/۶-۷)۔ [2] (جبل صِیر): ایک پہاڑ کا نام۔ (ملاحظہ ہو: النہایۃ في غریب الحدیث و الأثر، مادۃ ’’صیر‘‘، ۳/۶۶)۔ [3] جامع الترمذي ، أحادیث شتّٰی من أبواب الدعوات، باب ، رقم الحدیث ۳۷۹۸، ۱۰؍۶۔۷۔ شیخ البانی نے اسے [حسن] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن الترمذي ۳؍۱۸۰)۔