کتاب: رزق اور اس کی دعائیں - صفحہ 66
کیونکہ بے شک دودھ کے علاوہ، کوئی چیز بھی کھانے اور پینے (دونوں سے بیک وقت ) کفایت نہیں کرتی۔‘‘][1] حدیث کے حوالے سے دو باتیں: i: بعض محدثین کی رائے میں یہ دعا کھانا تناول کرنے اور دودھ پینے کے وقت پڑھی جائے۔ اس بات کا بھی احتمال ہے، کہ یہ دعا کھانا کھانے اور پینے کے بعد کی ہو۔ شاید بہتر یہ ہو، کہ یہ دعا دونوں وقت پڑھ لی جائے۔ وَ اللّٰہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ۔ ii: [وَ أَطْعِمْنَا خَیْرًا مِّنْہُ]: [اس سے بہتر کھلائیے] سے مراد یہ ہے، کہ: جنت میں اس سے بہتر کھانا عطا فرمانا یا دعا میں عموم ہے، کہ ہمیں دنیا و آخرت، دونوں میں، اس سے بہتر کھانا عطا فرمائیے۔ ۱۹-۴: امام ترمذی اورامام حاکم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: ’’فاطمہ رضی اللہ عنہا خادم طلب کرنے کی خاطر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، توآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے دریافت فرمایا: [’’جو چیز تم مانگنے آئی ہو ،وہ تمہیں زیادہ پسند ہے یا اُس سے بہتر چیز؟‘‘] انہوں[حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ] نے بیان کیا: [1] المسند، جزء من رقم الحدیث ۱۹۷۸، ۳؍ ۴۳۹ ـ ۴۴۰ ؛ و سنن أبي داود، کتاب العلم، باب ما یقول إذا شرب اللبن، جزء من رقم الحدیث ۳۷۲۴، ۱۰؍ ۱۴۱؛ وجامع الترمذي، أبواب الدعوات، باب ما یقول إذا أکل طعامًا ، جزء من رقم الحدیث ۳۶۸۴، ۹؍ ۲۹۵ ۔ ۲۹۶ ؛ والسنن لابن ماجہ، أبواب الأطعمۃ ، باب اللبن، رقم الحدیث ۳۳۲۲، ص ۵۵۱۔ الفاظِ حدیث المسند کے ہیں۔امام ترمذي اور شیخ البانی نے اسے [حسن] ، شیخ ارناؤوط ، اُن کے رفقاء اور شیخ عصام نے [حسن لغیرہ] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: جامع الترمذي ۹؍ ۲۹۶ ؛ و صحیح سنن الترمذي ۳؍ ۱۵۹ ؛ وہامش المسند ۳؍ ۴۴۰-۴۴۱؛ وہامش السنن لابن ماجہ ، ص ۵۵۱)۔