کتاب: رزق اور اس کی دعائیں - صفحہ 64
وَ نَعُوْذُبِکَ مِنْ أَنْ نَظْلِمَ أَوْ نُظْلَمَ۔] [’’اے اللہ! یقینا ہم فقر، تنگ دستی اور ذلّت سے آپ کے ساتھ پناہ طلب کرتے ہیں اور ہم ظلم کرنے اور ظلم کیے جانے سے آپ کے ساتھ پناہ کا سوال کرتے ہیں]۔ ب: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسروں کو بتلائی ہوئی دعائیں: ۱۶-۱: امام مسلم نے ابو مالک اشجعی کے والد رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، (کہ) انہوں نے بیان کیا: [’’جب کوئی آدمی مسلمان ہوتا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُسے نماز سکھلاتے، پھر اُسے ان الفاظ کے ساتھ دعا کرنے کا حکم دیتے: ’’ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِيْ، وَارْحَمْنِيْ، وَاھْدِنِيْ، وَعَافِنِيْ، وَارْزُقْنِيْ ‘‘[1] [’’اے اللہ! مجھے معاف فرما دیجئے، مجھ پر رحم فرمائیے، مجھے ہدایت دیجئے، مجھے عافیت عطا فرمائیے اور مجھے رزق دیجئے‘‘]۔ تنبیہ: اس دعا میں اپنے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے والا یوں کہے: ( [اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَنَا، وَارْحَمْنَا، وَاھْدِنَا، وَعَافِنَا، وَارْزُقْنَا۔] [اے اللہ! ہمیں معاف فرما دیجئے، اور ہم پر رحم فرمائیے، اور ہمیں [1] صحیح مسلم، کتاب الذکر و الدعآء و التوبۃ و الاستغفار، باب فضل التہلیل والتسبیح والدعآء، رقم الحدیث ۳۵۔ (۲۶۹۷) ، ۴؍ ۲۰۷۳۔ ٭ امام ابوداؤد نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے، کہ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوسجدوں کے درمیان کہا کرتے تھے: ’’اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِيْ، وَارْحَمْنِيْ، وَعَافِنِيْ، وَاھْدِنِيْ، وَارْزُقْنِيْ‘‘ (صحیح سنن أبي داود، کتاب الصلاۃ، باب الدعآء بین السجدتین، رقم الحدیث ۷۵۶۔(۸۵۰)، ۱/۱۶۰)۔ شیخ البانی نے اسے [حسن] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق۱/۱۶۰)۔